☰ Surah
☰ Parah

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝

اللہ کے نام (اسی کی مدد) سے جورحمٰن اور رحیم ہے، میں اس کا م کا آغاز کر ر ہا ہوں۔

الۗمّۗصۗ۝۱ۚ

الف ۔ لام ۔ میم ۔ صاد(یہ حروفِ مقطعات ہیں۔ ان کے کوئی معنی صحیح اسناد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے منقول نہیں ہیں)

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْہُ

یہ ایک کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے۔ (ائے محمدﷺ) آپ کے دل میں اس تعلق سے کسی قسم کی گر انی پیدا نہ ہونی چا ہیئے۔

لِتُنْذِرَ بِہٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ۝۲

(کتاب کے نزول کا مقصد یہ ہے) کہ آپ اسکے ذریعہ (لوگوں کو نقصانِ آخرت سے) ڈرا ئیں اور(اس میں) ایمان والوں کیلئے نصیحت ہے۔

اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ

(ائے لوگو) جو کتاب تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے( علماًو عملاً) اس کی اِتباع کرو۔

وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۭ

اور اس کے سوا کسی اور کی اتباع نہ کرو ۔

قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ۝۳

تم بہت ہی کم نصیحت پذیر ہوتے ہو۔

توضیح :(اس حکم میں قرآن و سنّت دونوں کی اتباع داخل ہے۔صرف قرآن وحدیث ہی کی اِتبا ع فرض اور واجب ہے۔ اس کے علاوہ کسی کی اتباع فرض نہیں ہے)

وَكَمْ مِّنْ قَرْيَۃٍ اَہْلَكْنٰہَا

اور کتنی ہی بستیاں تھیں جنھیں ہم نے تباہ کردیا۔

فَجَاۗءَہَا بَاْسُـنَا بَيَاتًا اَوْ ہُمْ قَاۗىِٕلُوْنَ۝۴

تو اُن بستوں پر ہما را عذاب( اچانک) رات کے وقت آیا۔ یا(دن کوجب وہ اپنے گھروں میں)وہ جب قیلو لہ(آرام) کررہے تھے۔

فَمَا كَانَ دَعْوٰىہُمْ اِذْ جَاۗءَہُمْ بَاْسُـنَآ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اِنَّا كُنَّا ظٰلِـمِيْنَ۝۵

جب ان پر ہما را عذاب آیا تو انھوں نے اس کے سوا اور کچھ نہ کہا کہ واقعی ہم ہی ظالم تھے۔

فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْہِمْ

پھر جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے تھے ہم ان سے ضرور پو چھیں گے(یعنی ان کا جواب لیں گے۔)

وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ۝۶ۙ

اور ہم رسولوں سے بھی پو چھیں گے کہ( تم نے کس حدتک اپنے فرائض رسالت کی تکمیل کی۔)

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْہِمْ بِعِلْمٍ وَّمَا كُنَّا غَاۗىِٕبِيْنَ۝۷

پھر ہم (اپنے ذاتی) علم کی بناء پر ان کے حالاتِ( زندگی) بیان کردیں گے کہ ہم بے خبر نہ تھے۔

وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ۝۰ۚ

اس دن (لوگوں کے ) اعمال کا وزن کیا جانا حق ہے۔

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُہٗ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۸

لہٰذا جس کا نامۂ اعمال ( میزان میں) وزنی ہو گا۔ پس وہی کامیاب وبامُراد ہوں گے(انھیں کی نجات ہوگی۔)

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُہٗ فَاُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَظْلِمُوْنَ۝۹

اور جس کا پلّہ ہلکاہوگا ، ایسے ہی لوگ اپنا نقصان اٹھا نے والے ہوں گے۔ اس سبب سے کہ وہ ہما رے احکام خاطر میں نہ لاتےتھے۔

وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِي الْاَرْضِ

اور ہم نے تم کو زمین پر بسایا۔

وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْہَا مَعَايِشَ۝۰ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۝۱۰ۧ

اور اس میں تمہارے لیے زندگی کا سامان مہیّاکیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزار ہو(کم ہی ہیں جو اطاعت کرتے ہیں)

وَلَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ

اور ہم ہی نے تم کو پیدا کیا پھر ہم ہی نے تمہاری صورت بنائی۔

ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ۝۰ۤۖ

پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم (علیہ السلام ) کو سجدہ کریں۔

فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ۝۰ۭ لَمْ يَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ۝۱۱

تو ابلیس کے سوا سبھوں نے سجدہ کیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ۝۰ۭ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ میرے حکم کے باوجود کس چیزنے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا ۔

قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْہُ۝۰ۚ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِيْنٍ۝۱۲

ابلیس نے کہا میں اُس سے( آدم سے) بہتر ہوں۔ کیونکہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اُس کو مٹی سے بنایا ۔

قَالَ فَاہْبِطْ مِنْہَا

(اس گستاخانہ جواب پر) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ تو (آسمان سے )نیچے اُتر جا۔

فَمَا يَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِيْہَا

تجھے کوئی حق نہیں کہ یہا ں رہ کر تکبر کرے ۔ اپنی بڑائی جتائے۔

فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيْنَ۝۱۳

پس تو یہاں سے نکل جا۔ بے شک توذلیلوں میں سے ایک ذلیل ہے۔

توضیح :امرِ حق کو حقیر جاننا اور تسلیم نہ کرنا تکبّرہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ہر نا فرمان، سرکش بد زبان تکبر وغرور کرنے والا اہلِ نار سے ہے۔(بخاری ومسلم)

قَالَ اَنْظِرْنِيْٓ اِلٰي يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۝۱۴

(شیطان نے) کہا مجھے اُٹھائے جانے کے دن (قیامت) تک مہلت دیجئے۔ (یعنی میں جتنی بھی شرراتیں کر سکوں گرفت نہ کی جائے)

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ۝۱۵

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تجھے مہلت دی گئی(جتنی شرراتیں چا ہے کرلے)

قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ

شیطان نے کہا جس طرح آپ نے میری گمرا ہی کاسامان کیا۔

لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ۝۱۶ۙ

میں بھی ان (کو گمراہ کرنے) کے لئے آپ (اللہ تعالی)کےسیدھے راستے پر بیٹھا رہوںگا۔

ثُمَّ لَاٰتِيَنَّہُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ اَيْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِہِمْ۝۰ۭ

پھر میں ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور اُن کی داہنی جانب سے اور اُن کی بائیں جا نب سے یعنی جس طرح بھی بن پڑے گا چاروں طرف سے آتا رہوں گا ۔ (انھیں بہکا نے میں کوئی دقیقہ ا ٹھا نہ رکھوں گا)

وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَہُمْ شٰكِرِيْنَ۝۱۷

اور (اللہ تعالیٰ) آپ اُن میں سے اکثر کو( اطاعت گزارو) احسان مند نہ پائو گے۔

قَالَ اخْرُجْ مِنْہَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا۝۰ۭ

(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا۔ تو یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل۔

لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْہُمْ لَاَمْلَــــَٔـنَّ جَہَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِيْنَ۝۱۸

ان میں سے جو تیرا کہنا مانے گا میں ضروران سب سے جہنّم کو بھر دوں گا۔

وَيٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّۃَ

اور(اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ائے آدم تم اور تمہاری بیوی جنّت میں رہو۔

فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِـئْتُمَا

پھر دونوں(جنّت میں ) جہاں سے چا ہو کھا ئو(پیو)

وَلَا تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِـمِيْنَ۝۱۹

مگر (اتنی بات یاد رکھو) اس درخت کے قریب بھی نہ جانا کیونکہ ایسا کرو گے تو ظالمین میں شامل ہو جائو گے۔

فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّيْطٰنُ لِيُبْدِيَ لَہُمَا

پھر شیطان نے ان کے دلوں میں وسو سہ ڈالا تاکہ اُن پر ظا ہر کردے

مَا وٗرِيَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْاٰتِہِمَا

اُن کے وہ پوشیدہ اعضاء جو ایک دوسرے سے چھپا ئے گئے تھے۔

وَقَالَ مَا نَہٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ

اور (شیطان نے ان سے) کہا تمہا رے رب نے اس درخت کے نہ کھانے سے محض اس لیے منع کیا ہے

اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِيْنَ۝۲۰

کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ ہو جا ئو یا ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے ہوجائو۔

وَقَاسَمَہُمَآ اِنِّىْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ۝۲۱ۙ

اور قسم کھا کرا نھیں با ور کرا یا کہ میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔

فَدَلّٰىہُمَا بِغُرُوْرٍ۝۰ۚ

غرض۔ انھیں دھوکہ سے معصیت کی طرف لے آیا(اعلیٰ مقام سے اسفل) زمین پر اتارے گئے۔

فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا

پھر جب ان دونوں نے اس درخت کو چکّھا تو ان کے پوشیدہ اعضاء ایک دوسرے پر کھل گئے (اس درخت کی یہ تا ثیر تھی یا مما نعت کی وجہ ایسا ہوا)

وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْہِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ۝۰ۭ

اور وہ دونوں اپنے ستر بہشت کے(درختوں کے) پتّوں سے ڈھانکنے لگے۔

وَنَادٰىہُمَا رَبُّہُمَآ اَلَمْ اَنْہَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَۃِ

اور ان کے رب نے انھیں پکارا ۔ کیا میں نے تم کو اس درخت(کے پاس جانے) سےمنع نہ کیا تھا۔

وَاَقُلْ لَّكُمَآ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۝۲۲

اور تمہیں جتا نہ دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَـنَا ۝۰۫

دونوں نے کہا ائے ہما رے پروردگار ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا۔

وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۝۲۳

اور اگر آپ نے ہمیں بخش نہ دیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو یقیناً ہم بڑے ہی خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے ۔

قَالَ اہْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ۝۰ۚ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم سب (بہشت سے) نیچے زمین پر اتر جائو تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔

وَلَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰي حِيْنٍ۝۲۴

اور تمہارے لیے زمین پرایک مقرر ہ مدّت تک) رہنا سہنا ہے۔ اور ایک مقررہ مدت تک اس سے فائدہ اُٹھانا ہے۔

قَالَ فِيْہَا تَحْيَوْنَ وَفِيْہَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْہَا تُخْرَجُوْنَ۝۲۵ۧ

اور فرمایا تم کو اسی زمین میں زندگی بسر کرنی ہے۔ اور اسی میں مرنا ہے۔ اور اسی میں سے نکالے جائو گے یعنی زندہ کرکے اُٹھائے جاوگے۔

توضیح : روزِ ازل ہی سے تجربہ کر ایا گیا کہ شیطان بنی آدم کادشمن ہے۔ وہ اُنھیں جنّت سے محروم رکھنے کے لیے ہر بُرائی کو بھلائی کی شکل میں پیش کرتا رہے گا۔

يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ

ائے بنی آدم ہم نے تمہارے لیے لباس پیدا کیا۔

لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا۝۰ۭ

جو تمہارے ستر(قابل ِ شرم حصوں ) کو چھپا تا ہے۔(جاڑے اور گرمی سے جسم کو بچاتا ہے)باعث زینت بھی ہے۔

وَلِبَاسُ التَّقْوٰى۝۰ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ۝۰ۭ

اور پر ہیز گاری کالباس اس سے بہتر ہے(ایمان اور اس کے ثمرات)

ذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللہِ لَعَلَّہُمْ يَذَّكَّرُوْنَ۝۲۶

یہ (آدم اور ابلیس کا واقعہ) اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے تاکہ لوگ اس واقعہ سے نصیحت حاصل کریں(اور اپنے ازلی دشمن شیطان کے شرسے ہو شیار اور اس کی چالوں سے باخبر رہیں)

يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَـمَآ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ

ائے اولادِ آدم ؑ کہیں شیطان تم کو اپنی شرارتوں کا تختۂ مشق نہ بنا دے۔

توضیح : جیسا کہ تمہارے والدین(آدم وحوا) کو دھوکا دے کر جنّت سے باہر کروایا۔

يَنْزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِيُرِيَہُمَا سَوْاٰتِہِمَا۝۰ۭ

ان سے ان کالباس بھی اُتر وادیا تاکہ ان کے مخصوص اعضا انھیں دکھا دے۔

اِنَّہٗ يَرٰىكُمْ ہُوَوَقَبِيْلُہٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَہُمْ۝۰ۭ

یقیناً وہ اور اس کا قبیلہ(ایک لشکر کا لشکر) تم کو اس طرح دیکھتا ہے کہ تم ان کودیکھ نہیں سکتے۔

توضیح :مطلب یہ ہے کہ شیطان تمہارا چھپا ہوا دشمن ہے۔ ایسے دشمن سے بہت زیادہ ہو شیار رہنے کی ضرورت ہے۔

اِنَّا جَعَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ۝۲۷

ان لوگوں کے لیے جو (باطل عقائد میں مبتلا ء ہیں) الٰہی تعلیم کو قبول کرنا نہیں چاہتے ہم شیا طین کو ان کا دوست بنا دیتے ہیں ۔

(جیسا کہ ارشاد اِلٰہی ہے۔ وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَہٗ شَيْطٰنًا فَہُوَلَہٗ قَرِيْنٌ۝۳۶(الزخرف)
ترجمہ : اور جو کوئی اللہ رحمٰن کی یاد سے آنکھیں بند کرلے ہم اُس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں اور وہ اس کا ساتھی ہو جاتا ہے

وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَيْہَآ اٰبَاۗءَنَا وَاللہُ اَمَرَنَا بِہَا۝۰ۭ

اور جب یہ لوگ بے حیا ئی کاکام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پا یا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ہم کو ایسا ہی حکم دیا ہے۔

توضیح :یہاں پر فاحشہ سے مُراد ننگے ہوکر طواف کرنا ہے جیسا کہ جہلائے عرب میں دستور تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم اس طرح کرتے ہیں جیسے ہما ری مائوں نے ہم کو جنا ۔ یہ بات شیطان کے وسوسے سے انھوں نے ایجاد کی تھی(ابن کثیر)

قُلْ اِنَّ اللہَ لَا يَاْمُرُ بِالْفَحْشَاۗءِ۝۰ۭ

کہئے۔ اللہ تعالیٰ بے حیائی کے کا موں کا حکم نہیں دیتے۔

اَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝۲۸

کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جس کو تم نہیں جانتے۔

قُلْ اَمَرَ رَبِّيْ بِالْقِسْطِ۝۰ۣ

پیغمبر(ﷺ) کہئیے میرے رب نے (تہذیب و شائستگی)عدل وانصاف کا حکم دیا ہے۔

وَاَقِيْمُوْا وُجُوْہَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ

اور ہر عبادت کے موقع پر جذ بۂ اطا عت گزاری کے ساتھ اپنا رُخ سیدھا رکھو

وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ۝۰ۥۭ

اور شرک کی آمیز ش کے بغیر (ہر چھوٹی بڑی حاجت و مصیبت میں مدد کے لیے) اُسی(اللہ تعالیٰ ) کو پکارو( عبادت اُسی کے لیے مختص ہے)

كَـمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ۝۲۹ۭ

تم کو اللہ تعالیٰ نےابتداًء جس طرح(جسم کے ساتھ) پیدا کیا تھا اسی طرح دوسری باربھی(جسم کے ساتھ) پیدا کیے جائو گے۔

فَرِيْقًا ہَدٰي وَفَرِيْقًا حَقَّ عَلَيْہِمُ الضَّلٰلَۃُ۝۰ۭ

بعض کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمرا ہی ثابت ہوئی۔

اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ اللہِ

انھوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا حامی و مشیر بنا لیا۔

وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُّہْتَدُوْنَ۝۳۰

وہ سمجھتے رہے کہ وہ ہدایت پر ہیں۔

يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ

اے اولادِ آدم عبادت کے ہر موقع پر لباس سے آراستہ رہو۔

توضیح : جا ہلیت کے دور میں لوگ بر ہنہ یا نیم برہنہ حالت میں کعبۃ اللہ کا طواف کر نا ضروری سمجھتے ۔تھے ان کا عقیدہ تھا کہ عبادت کے وقت دنیا جو ایک ناپاک مقام ہے اس کاکم سے کم سا مان جسم پر رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا۔

وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۝۰ۚ

اور کھا ئو پیو۔ مگر کھا نے پینے کی چیزوں کو ضائع نہ کرو۔ یہ اسراف ہے۔

اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ۝۳۱ۧ

یقیناً اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔

توضیح : عمو ماً مشرکین کسی دُور مقام اِستھا نوں پر جاتے تو کھا نے پینے کا جو سامان بچ جاتا اس کو گھر لانا معیوب سمجھتے۔ جانوروں کو کھلا دیتے یا تالاب ونہروں میں ڈال دیتے ان کا دیکھا دیکھی مسلمان بھی حج کے موسم میں ایسا ہی کرتے جس سےمنع کیا گیا۔

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَۃَ اللہِ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ۝۰ۭ

ائےنبی(ﷺ) ان سے پو چھئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو سامان ِ زینت اچھا لباس اور مرغوب غذائیں پیدا کی ہیں، ان کا استعمال کس نے حرام کیا ہے۔

قُلْ ہِىَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا خَالِصَۃً يَّوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝۰ۭ

کہہ دیجئے۔ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں اہلِ ایمان کے لیے ہیں۔ قیامت کے دن( اُخروی زندگی میں سامان ِ زینت اور ہر قسم کی مر غوب غذائیں صرف) اہلِ ایما ن کے لیے مختص رہیں گی۔

كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۝۳۲

اسی طرح ہم اپنی آیتیں سمجھ بوجھ سے کام لینے والوں کے لیے صاف صاف بیان کیے دیتے ہیں۔

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ

کہیئے۔ میرے رب نے بے حیا ئی کے کا موں کو چا ہے علا نیہ ہوں کہ پوشیدہ حرام فرمایا ہے اور ہر طرح کے گناہ کو اور ناحق کسی پر ظلم زیادتی کرنے کو بھی۔

وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللہِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا

اور اس بات کو بھی کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھیرائو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل علمی نازل نہیں فرما ئی۔

وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝۳۳

اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ پر ایسی باتیں کہو جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔

مثلاً نجات بزرگوں کے واسطے و وسیلے اور نسبتوں سے ہو جا تی ہے۔ اور کتنے ہی گناہ کیے جائو بزرگوں کی سفارش پر اللہ تعالیٰ بخش دیں گے۔ تصوف کی وہ تمام تعلیم جس کا عنوان وحدۃ الوجود، وحدۃ الشہود اور جس کے بنیادی اجزاء وجودِ واحد، اــ نائے واحد وغیرہ یہ سب باتیں اَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ کے تحت آتی ہیں۔ (الا عراف: ۳۸ )کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہوجن کو تم نہیں جانتے۔

وَلِكُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ۝۰ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُہُمْ لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ۝۳۴

ہر ایک گر وہ کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب ان کا وہ مقررہ وقت آجاتا ہے تو ایک ساعت پیچھے، ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔

توضیح : اس مقررہ مدّت میں ان کے مجر مانہ افعال کی سزاانھیں نہ ملے تو اس کے یہ معنی نہیں، ہیں کہ وہ سزا سے بچ جائیں گے۔

يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ

ائے بنی آدم اگر تمہا رے پاس تمہیں میں سے رسول آئیں

يَـقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ۝۰ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ

میرے احکام تمہیں سنا ئیں۔ پھر جوکوئی(احکام الٰہی کی خلاف ورزی سے ) بچے اور (اپنے عقائد کی) اصلاح کرلے۔

فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ۝۳۵

توایسے لوگوں پر نہ کچھ خوف طا ری ہوگا اور نہ وہ کسی قسم کے حزن وملال میں مبتلا ہوں گے۔

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْـتَكْبَرُوْا عَنْہَآ

اور جن لو گوں نے ہماری تعلیمات کو جھٹلا یا اور اُن سے سر کشی وسر تا بی کی

اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ۝۰ۚ ہُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝۳۶

وہ سب دوزخی ہوں گے اور وہ اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللہِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِہٖ۝۰ۭ

پھر اس بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرے۔

اُولٰۗىِٕكَ يَنَالُہُمْ نَصِيْبُہُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ۝۰ۭ

اُن کو اُن کے نصیب کا لکھا مل جائے گا۔

حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَتْہُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَہُمْ۝۰ۙ

یہاں تک کہ جب ہما رے فرشتے ان کی روح قبض کرنے کے لیے آئیں گے۔

قَالُوْٓا اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۭ

وہ اُن سے پو چھیں گے، اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو تم مدد کے لیےپکا ر تے اب وہ کہاں ہیں

قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَشَہِدُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ اَنَّہُمْ كَانُوْا كٰفِرِيْنَ۝۳۷

تو کہیںگے۔ وہ تو ہمارے ذہنوں سے گم ہو گئے۔ اور اپنے ہی خلاف شہادت دیں گے کہ وہ کافر تھے(اپنے کافرہونے کا اقرار کریں گے۔)

قَالَ ادْخُلُوْا فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِي النَّارِ۝۰ۭ

تواللہ تعالیٰ فرمائیں گے جو فرقے تم سے پہلے گزر چکے ہیں جِنات میں سے اور انسانوں میں سے تم بھی ان کے ساتھ دوزخ میں داخل ہو جائو۔

كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَہَا۝۰ۭ

جب بھی کوئی جماعت جہنّم میں داخل ہو گی تو اپنی جیسی دوسری جماعت پر لعنت کسے گی۔

حَتّٰٓي اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْہَا جَمِيْعًا۝۰ۙ

یہاں تک کہ اس میں سب داخل ہو جا ئیں گے۔

قَالَتْ اُخْرٰىہُمْ لِاُوْلٰىہُمْ رَبَّنَا ہٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا

تو پچھلی جماعت پہلی جماعت کو کہے گی ائے ہما رے پروردگار ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔

فَاٰتِہِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ۝۰ۥۭ

لہٰذا انھیں آتش جہنّم کا دُگنا عذاب دیجئے۔

قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ۝۳۸

اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ۔ ہر ایک کے لیے دُ گناہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ (یعنی انھوں نے تم کو گمراہ کیااور تم نے دوسروں کو مگر تم اپنے کو بھول رہے ہو۔)

وَقَالَتْ اُوْلٰىہُمْ لِاُخْرٰىہُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ

اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی۔ تم کو ہم پر وہ کونسی فوقیت ہے کہ تمہارے مقابلہ میں ہم کو زیادہ عذاب دیا جائے(گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں تم ہم برابر ہیں)

فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۝۳۹ۧ

تو تم اپنی بداعمالیوں کے بدلے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔

اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْـتَكْبَرُوْا عَنْہَا

جن لو گوں نے ہما ری تعلیمات کو جھٹلا یا اور سر تا بی کی

لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ اَبْوَابُ السَّمَاۗءِ

ان کے لیے آسمان کے دروازے کھو لے نہ جائیںگے ۔

وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَـنَّۃَ حَتّٰي يَـلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ۝۰ۭ

اور نہ وہ جنّت میںداخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سو ئی کے ناکہ میں سے نہ نکل جائے (جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکہ میں داخل ہونا نا ممکن ہے اسی طرح ہمارے احکام کی تکذیب کرنے والوں کا جنّت میں جانا محال ہے )

وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِيْنَ۝۴۰

اور ہم مجرمین کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

لَہُمْ مِّنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍ۝۰ۭ 

اُن کے لیے آتش جہنّم کا بچھونا ہوگا اور اوڑھنا بھی اُسی آگ کا ہوگا۔

وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِــمِيْنَ۝۴۱

اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیتے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَآ۝۰ۡ

اور جولوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ۔ہم کسی نفس پراس کی قوتِ برداشت سے زیادہ بار نہیں ڈالتے۔

اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ۝۰ۚ ہُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝۴۲

ایسےہی لوگ جنتی ہیں جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ

اور (ایک دوسرے سے) جوکچھ بغض و عداوت ان کے دِلوں میں ہوگی ہم وہ سب دور کردیں گے(یعنی ہم دنیا کی باہم کدورتوں سے ان کے سینوں کو صاف کردیں گے۔)

تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہِمُ الْاَنْھٰرُ۝۰ۚ

(جس جنّت میں وہ رہیں گے) اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔

توضیح : دودھ کی نہر جس میں کبھی کسی طرح کی بُو اور سڑن پیدانہ ہوگی نہایت ہی لذیز شفاف خوش ذائقہ پا نی کی نہریں اور طرح طرح کے رسیلے میو ئوں کے رس کی نہریں اور مصّفےٰ شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ بڑا ہی روح پر ورمنظر ہوگا۔

وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِيْ ہَدٰىنَا لِـھٰذَا۝۰ۣ

اور وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ کاشکر واحسان ہے کہ اُس نے ہم کو اس مقام تک پہنچایا۔

وَمَا كُنَّا لِنَہْتَدِيَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰىنَا اللہُ۝۰ۚ

اور اگر اللہ تعالیٰ ہمیں راہ نہ دکھا تے تو ہم کبھی راہ نہ پاتے

لَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ۝۰ۭ

واقعی ہمارے پروردگار کے پیغمبر صحیح تعلیمات کے ساتھ آئے تھے

وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝۴۳

اور اُن سے پُکار پُکار کر کہا جا ئے گا کہ تم اس جنّت کے وارث بنا دئیے گئے یہ اُن اعمال کا صلہ ہے جو دنیا میں تم نے کیے تھے۔

وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبَ النَّارِ

کہ ہم سے ہمارے رب نے(جنّت کا) جو وعدہ کیا تھا ہم نے اس کو سچا پایا۔

فَہَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا۝۰ۭ

تو تم سے تمہارے رب نے (دوزخ کا) جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے بھی اس کو واقعہ کے مطابق پا یا ۔

قَالُوْا نَعَمْ۝۰ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَہُمْ

(دوزخی) جواب دیں گے ہاں۔ پھر ان کے درمیان ایک پکار نے والا پکار کر کہے گا

اَنْ لَّعْنَۃُ اللہِ عَلَي الظّٰلِــمِيْنَ۝۴۴ۙ

کہ ظالموں(مشرکوں) پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ۔

الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ وَيَبْغُوْنَہَا عِوَجًا۝۰ۚ

یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے تھے اور اُس میں عیب و نقص تلاش کرتے تھے۔

وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ كٰفِرُوْنَ۝۴۵ۘ

اوروہ آخرت کے بھی منکر تھے۔

وَبَيْنَہُمَا حِجَابٌ۝۰ۚ

اور اُن(دوزخیوں اور جنتیوں) کے درمیان ایک پر دہ حائل ہوگا۔

وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢابِسِيْمٰىہُمْ۝۰ۚ

اور اس بلندی پر جس کانام اعراف ہے کچھ لوگ ہوں گے وہ(اپنے متعار ف لوگوں میں سے) ہر ایک کو ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گے

وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ۝۰ۣ

اور اہلِ جنّت کو پکار کر کہیں گے تم پر سلامتی ہو۔

لَمْ يَدْخُلُوْہَا وَہُمْ يَطْمَعُوْنَ۝۴۶

یہ(اہلِ اعراف) ابھی جنّت میں داخل تو نہ ہوئے ہونگے مگرا نھیں اُمید ہوگی(کہ وہ جنّت میں داخل کر دیئے جائیںگے)

وَاِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُہُمْ تِلْقَاۗءَ اَصْحٰبِ النَّارِ۝۰ۙ

اور جب اُن کی نگا ہیں پلٹ کر دوزخیوں پر جا پڑیں گی ۔

قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِـمِيْنَ۝۴۷ۧ

عرض کریں گے۔ ائے ہما رے پروردگار ہم کو ان ظالموں کے ساتھ شمار نہ کیجئے۔

وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا يَّعْرِفُوْنَہُمْ بِسِيْمٰىہُمْ

اور اہل ِ اعراف بعض لوگوں کو ان کی صورتوں سے پہچان کر انھیں آواز دینگے۔

قَالُوْا مَآ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ۝۴۸

کہیں گے تمہاری اکثریت اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا

اَہٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا

(پھر مومنوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن

يَنَالُہُمُ اللہُ بِرَحْمَۃٍ۝۰ۭ

کے بارے میں تم قسمیں کھا یا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنی رحمت سے سر فراز نہ کریں گے۔(کیو نکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کو اختیار نہ رکھنے والے کہتے تھے۔اس کے بر خلاف انھیں کہا جائے گا)

اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ۝۴۹

(ائے ایمان والو!) جنّت میں داخل ہو جائو نہ تم پر کبھی خوف طاری ہوگا۔ اور نہ تم (کسی طرح کے) رنج و غم میں مبتلا کیے جائو گے۔

وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ

اور دوزخی جنتیوںسے(نہایت اِلحاح وزاری سے) پُکار پُکار کر کہیں گے۔

اَنْ اَفِيْضُوْا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاۗءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللہُ۝۰ۭ

کہ ہم پر تھو ڑا سا پانی اُنڈیل دو یا جو رزق اللہ تعالیٰ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے(اس میں سے تھوڑا ہمیں بھی دےدو)

قَالُوْٓا اِنَّ اللہَ حَرَّمَہُمَا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ۝۵۰ۙ

جنّتی جواب دیں گے بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے کافروں پر یہ دو نوں چیزیں حرام کردی ہیں۔

الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَہُمْ لَہْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْہُمُ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا۝۰ۚ

یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے دین کو کھیل تما شہ بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے انھیں دھو کہ میں ڈال رکھا تھا۔

فَالْيَوْمَ نَنْسٰـىہُمْ كَـمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِہِمْ ھٰذَا۝۰ۙ

(اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) آج ہم انھیں ایسا ہی بھلا دیں گے جیسا اُنھوں نے اس دن کے آنے کو بُھلا رکھا تھا۔

توضیح : نَتْرُوْ کُھُمْ فِی الْعَذَابِ کَالْمُنْسِیَیْنِ ہم ان کو بھولنے والوں کی طرح عذاب میں چھوڑے رکھیں گے وہ عذاب میں جلتے رہیں گے اور ہم انھیں پو چھیں گے بھی نہیں۔

وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ۝۵۱

اور اس وجہ سے بھی کہ وہ ہماری آیتوں کے منکر تھے۔

وَلَقَدْ جِئْنٰہُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰہُ عَلٰي عِلْمٍ

اور ہم نے اِن کے پاس ایک کتاب پہنچادی ہے جس میں ہم نے (اپنے عِلم ازلی کے تحت) نہایت عمدہ وضاحت کی ہے

ہُدًى وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۝۵۲

ایمان لانے والوں کے لیے اس میں ہدایت وراحت کا سامان ہے۔

ہَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَہٗ۝۰ۭ

کیا یہ لوگ اس وعدۂ عذاب کے منتظر ہیں۔

يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُہٗ

جس دن وہ واقع ہو جا ئے گا۔

يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْہُ مِنْ قَبْلُ

تو جولوگ پہلے سے اس روز کو بھولے ہوے تھے، وہ بول اٹھیں گے۔

قَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ۝۰ۚ

بے شک ہما رے رب کے پیغمبر حق بات(صحیح تعلیمات) کے ساتھ آئے تھے (مگر ہم نے نہ مانا)

فَہَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَاۗءَ فَيَشْفَعُوْا لَنَآ

کیا اب یہ ہو سکتا ہے کہ ہم کو کوئی سفارشی ملیں جو ہمارے حق میں سفارش کریں

اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ۝۰ۭ

یا ہم دنیا میں واپس بھیج دئیے جائیں تاکہ جو اعمال ہم کیا کرتے تھے اُن کے بر خلاف( اچھے) عمل کرسکیں۔

قَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۝۵۳ۧ

بے شک انھوں نے اپنا آپ نقصان کیا اور(نجات کے تعلق سے) جو کچھ باتیں گھڑ رکھی تھیں وہ سب ذہن سے نکل گئیں۔

اِنَّ رَبَّكُمُ اللہُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِـتَّۃِ اَيَّامٍ

یقیناً تمہارا پروردگا رو ہی تو جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔

ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ۝۰ۣ

پھر(کارفر مائی کے لیے) عرش( تختِ سلطنت) پر جلوہ افروز ہوا۔

يُغْشِي الَّيْلَ النَّہَارَ يَطْلُبُہٗ حَثِيْثًا۝۰ۙ

وہی رات کو دن پر ڈھانکتا ہے (دن اور رات) ایک دوسرے کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔(یعنی دن کی روشنی کو رات سے بدل دیتا ہے اور پھر رات گزر تے ہی دن کی روشنی کو نمودار کردیتا ہے۔(دن جاتا ہے رات آتی ہے اور رات گزرتی ہے تو دن نمودار ہو جا تا ہے۔)

وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍؚ بِاَمْرِہٖ۝۰ۭ

اور سورج اور چاند اور تارے پیدا کیے جو اسی کے حکم کے تحت اپنا اپنا کام کیے جارہے ہیں۔

اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ۝۰ۭ

دیکھو ! سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کا ہے ۔(تمہیں معلوم ہونا چا ہیئے ہر چیز کو عدم سے وجود میں لانا اُسی کی شان ہے۔ تدبیر، تصرف، فرمانروائی اسی کی سزوار ہے۔)

تَبٰرَكَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۝۵۴

اللہ تعالیٰ بڑی برکت والے فیض رساں ہیں سارے عالم کے پر ورش کرنے والے ہیں۔

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَۃً۝۰ۭ

(ہر آفت و مصیبت حاجت و ضرورت میں کسی مقرب سے مقرب بندہ کا واسطہ وسیلہ لیے بغیر مدد کے لیے) اپنے ہی پر ور دگار کو دل ہی دل میں نہایت عا جزی کے ساتھ پکا رو۔

اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۝۵۵ۚ

حد و دِ بندگی سے نکل جانے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند ،نہیں فرماتے ۔

آفت و مصیبت میں اللہ تعالیٰ کے سوا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کو مدد کے لیے پکارنا یا ان کا واسطہ وسیلہ لینا۔ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے حدودِ بندگی کو توڑنا ہے۔

وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَا

دنیاکی اصلاح ہونے کے بعد فساد نہ پھیلائو(کہ نئی نئی بدعات و شرکیہ افعال نکال کر اصل دین کو مٹا ئو)

وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّطَمَعًا۝۰ۭ

خوف وامید کے ساتھ(کسی کو واسطہ وسیلہ بنائے بغیر) مددکے لیے راست اللہ ہی کو پکارو۔

اِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِـنِيْنَ۝۵۶

بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیکو کا روں سے قریب ہے۔

توضیح : نیکو کاروہ ہیں جن کے عقیدہ میں شرک اور عمل میں بدعت نہ ہو۔

وَہُوَالَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِہٖ۝۰ۭ

اور(اللہ) وہی تو ہے جو اپنی رحمت( مینہ برسا نے) سے پہلے( بار ش کی) خوشخبری دینے والی سرد ہوا ئیں بھیجتا ہے۔

حَتّٰٓي اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰہُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ

یہاں تک کہ جب وہ پانی سے با دلوں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم(ان بادلوںکو) کسی مُردہ( خشک) زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں۔

فَاَنْزَلْنَا بِہِ الْمَاۗءَ فَاَخْرَجْنَا بِہٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ۝۰ۭ

پس ہم اس سے پانی بر ساتے ہیں۔ پھر ہم اس پانی سے ہر قسم کے پھل(میوے) پیدا کرتے ہیں۔

كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۝۵۷

اسی طرح مُردوں کو بھی زمین سے نکال کھڑا کریں گے( یہ بات اس لیے بیان کی گئی ہے) تاکہ تم (اس امر واقعہ سے) نصیحت حاصل کرو۔
یعنی موت کے بعد کی زندگی کو یقینی سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے طریق پر اپنے آپ کو سنوار نے کی کو شش کیے جائو۔

وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُہٗ بِـاِذْنِ رَبِّہٖ۝۰ۚ

اور جو زمین اچھی ہوتی ہے، اس کی پیدا وار بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہری بھری اور اچھی ہی نکلتی ہے۔

وَالَّذِيْ خَبُثَ لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا۝۰ۭ

اور وہ زمین جو ناقص ہوتی ہے اس سے ناکارہ چیزیں، ہی نکلتی ہیں(پیدا ہوتی ہیں)

كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ۝۵۸ۧ

اس طرح ہم شکر گزار بندوں کے لیے طرح طرح سے(اپنے معبود ومستعان اور الہ واحد ہو نے کی) نشانیاں بیان کرتے رہتے ہیں۔

توضیح : نصیحتیں تو سب ہی کے لیے ہیں مگر ان سے فا ئدہ وہی اٹھا تے ہیں جو اِن پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور نقصان وہی اٹھا تے ہیں جو الٰہی تعلیمات سے کنارہ کش ہوتے ہیں۔

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِہٖ

(یہ ایک حقیقت ہے کہ) ہم نے نوحؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔

فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ۝۰ۭ

اور انھوں نے اپنی قوم سے کہا ائے میری قوم کے لوگو اللہ تعا لیٰ ہی کی بندگی کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود(ومستعان )نہیں ہے۔

اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۝۵۹

یقیناً میں تمہارے بارے میں ایک بڑے ہو لنا ک دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں ۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝۶۰

قوم کے سر داروں نے کہا ہم تم کو کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔

قَالَ يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ ضَلٰلَۃٌ وَّلٰكِـنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۶۱

نوحؑ نے کہا۔ ائے میری قوم کے لوگو مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے۔ بلکہ میں تو پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَاَنْصَحُ لَكُمْ

میں تم کو اپنےپروردگار کا پیغام پہنچا تا ہوں اور تمہارا خیر خواہ ہوں۔

وَاَعْلَمُ مِنَ اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝۶۲

اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی باتیں جانتا ہوں جس کو تم نہیں جانتے۔ (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس تعلیم کو جانتا ہوں جو تمہاری نجات کا واحد ذریعہ ہے۔)

اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَاۗءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰي رَجُلٍ مِّنْكُمْ

کیا تم کو اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعہ تمہارے پاس نصیحت آئی۔

لِيُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوْا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۝۶۳

تاکہ تم کو(شرک کے انجام بد سے) ڈرائے اور (یہ بھی مقصد ہے کہ) تم پر ہیز گار بنو۔ تم پر رحم کیاجا ئے۔

فَكَذَّبُوْہُ فَاَنْجَيْنٰہُ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗ فِي الْفُلْكِ

پھر انھوں نے نوحؑ کی تکذیب کی تو ہم نے نوحؑ کو اور اُن لوگوں کو جونوحؑ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے اپنے عذاب سے بچا لیا۔

وَاَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۝۰ۭ

اور جن لوگوںنے ہما ری تعلیمات کو جھٹلا یا ہم نے اُن سب کو طوفان میں غرق کردیا۔

اِنَّہُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِيْنَ۝۶۴ۧ

یقیناً وہ ایک اندھی قوم تھی(یعنی ان کے دل ایمان کی بصیرت سے عاری تھے)

وَاِلٰي عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا۝۰ۭ

اور اسی طرح قوم ِعادکی طرف ان کی برادری کے ایک فرد ہودؑ کو بھیجا۔

قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ

انھوں نے کہا ائے میری قوم کے لوگو(اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق) اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو۔

مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ۝۰ۭ

اس کے سوا تمہارا کوئی معبود (ومستعان )نہیں۔

اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۝۶۵

کیا تم اپنی اس غلط روش سے باز نہ آئو گے؟

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖٓ

اُن کی قوم کے کافر سر داروں نے کہا

اِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْ سَفَاہَۃٍ

یقیناً ہم تم کو کم عقل( صحیح راستے سے بھٹکا ہوا) دیکھتے ہیں۔

وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۝۶۶

اور ہم تم کو جھوٹے لو گوں میں سے سمجھتے ہیں۔

قَالَ يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ سَفَاہَۃٌ

ہودؑ نے کہا ائے قوم مجھ میںذرا بھی بے وقوفی نہیں ہے۔

وَّلٰكِـنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۶۷

لیکن میں تو پر ور دگار ِ عالم کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ

میں تم کو اپنے رب کا پیغام(تعلیماتِ الٰہی) پہنچا تا ہوں۔

وَاَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِيْنٌ۝۶۸

اور میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں۔(امانت دار ہوں اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کے احکام میں کوئی کمی پیشی نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم بلا کم وکاست پہنچا تا ہوں)

اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَاۗءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰي رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ۝۰ۭ

کیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہیں میں کے ایک شخص کے ذریعہ نصیحت آئی تاکہ تم کو (آخرت کے ابدی عذاب سے) ڈرائے۔

وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ

اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کرو جب کہ نوحؑ کی قوم کے بعد تم کو زمین کا وارث بنایا۔

وَّزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَصْۜطَۃً۝۰ۚ

اور تمہیں خوب پھیلا یا اور تم کو زیادہ کردیا۔

فَاذْكُرُوْٓا اٰلَاۗءَ اللہِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝۶۹

لہٰذا اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو مستحضر رکھو(کفرانِ نعمت نہ کرو) اللہ تعالیٰ ہی کے معبود ومستعان ہونے کی یہ تعلیم اس لیے دی گئی ہے) تاکہ تم فلاحِ آخرت حاصل کر سکو۔

قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللہَ وَحْدَہٗ

اُن سرداروں نے کہا کیا تم ہما رے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔

وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا۝۰ۚ

اور ان سب کو چھوڑدیں جنھیں ہمارے آباو اجداد پوجتے آئے ہیں۔

فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۝۷۰

تو تم ہمارے پاس اُس عذاب کو لے آئو(جس کی) ہم کو دھمکی دے رہے ہو، اگر تم سچّے ہو۔

قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّغَضَبٌ۝۰ۭ

اللہ کے پیغمبر نے کہا یقیناً تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب متعین ہو چکا اور تم غضب الٰہی کے مستحق ہو چکے

اَتُجَادِلُوْنَنِيْ فِيْٓ اَسْمَاۗءٍ سَمَّيْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ

تو کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑ تے ہو جن کو تم نے اور تمہا رے باپ دادا نے اپنی طرف سے گھڑ رکھا ہے ۔

مَّا نَزَّلَ اللہُ بِہَا مِنْ سُـلْطٰنٍ۝۰ۭ

جن کے شریک ِ خدائی ہو نے کی کوئی دلیل اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں کی ہے ۔

توضیح : بزر گانِ دین کے ایسے نام جیسے ’’غوث الاعظم‘‘ غوثِ اعظم دستگیر، غوث الثقلین، غوث الوریٰ، محبوب سبحانی، قطبِ ربانی، بندہ نواز، نکتہ نواز، غریب نواز وغیرہ یہ سب اسماء اسی نوعیت کے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو تا آنکہ حضورﷺ کو بھی ایسا خطاب یا نام نہیں عطا فرمایا جس سے شرک کی بو آتی ہو قرآن و حدیث میں ایسے اسماء کی کوئی دلیل یا مثال نہیں ملتی۔ یہ سب نام ہمارے باپ دادا یا ہما رے اپنے گھڑے ہوئے ہیں جن کی تا ئید کتاب و سنّت سے نہیں ہوتی۔

فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ۝۷۱

لہٰذا ۔ عذاب کا تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔

فَاَنْجَيْنٰہُ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا

لہٰذا ہم نے ہودؑ کو اور اُن لوگوں کو جنھوں نے ان کا ساتھ دیا اپنی رحمت سے بچا لیا۔

وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ۝۷۲ۧ

اور جنھوں نے دعوتِ حق کو جھٹلا یا ہم نے انھیں نیست و نابود کر دیا کیونکہ وہ مومن ہی نہ تھے۔

توضیح :متواتر آٹھ دن سات رات اس شدت سے آند ھی کا طوفان آیا جس نے ایک ایک سر کش کو اٹھا کر زمین و آسمان کے درمیان معلّق کر دیا۔ پھر ہر ایک کو کھوپڑی کے بل دے پٹکا۔ جس سے بھیجا نکل پڑا اور دھڑ سے الگ ہوگیا۔ حضرت ہود ؑ مع مومنین ایک حجرہ میں پناہ گزیں رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور تمام اہل ایمان کو اس تبا ہی سے محفوظ رکھا ۔

وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا۝۰ۘ

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا۔

قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ۝۰ۭ

(صالح علیہ السلام نےقوم کو اس طرح مخا طب کیا) ائے میری قوم کے لوگواللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمہارا معبود (ومستعان حاجت روا مشکل کشا) نہیں ہے۔

قَدْ جَاۗءَتْكُمْ بَيِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ۝۰ۭ ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَكُمْ اٰيَۃً فَذَرُوْہَا تَاْكُلْ فِيْٓ اَرْضِ اللہِ

یقیناً تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے جو تمہا رے لیے ایک معجزہ ہے جو پتھر کی چٹان میں سے پیدا کی گئی) تو اس کو آزاد چھوڑ دو تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر چرتی پھرے۔

وَلَا تَمَسُّوْہَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝۷۳

اور اس کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچائو ورنہ درد ناک عذاب تمہیں اپنی گرفت میں لے لیگا۔

وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ

اور اللہ تعالیٰ کا وہ احسان یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے قومِ عا د کے بعد تم کو زمین کا وارث بنا یا۔

وَّبَوَّاَكُمْ فِي الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُہُوْلِہَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ

اور تم کو زمین پر بسا یا(تم کو وہ صلا حیتیںبخشیں جس سے) تم زمین کے ہموار میدانوں میں عالیشان محل بنا تے ہواور پہاڑوں کو تراش کر

الْجِبَالَ بُيُوْتًا۝۰ۚ

گھربناتےہو ۔

فَاذْكُرُوْٓا اٰلَاۗءَ اللہِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۝۷۴

لہٰذا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو مستحضر رکھو اور ملک میں فساد مچا تے مت پھرو(مشرکانہ عقائد کی تعلیم دیتے نہ پھرو)

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ

اُن کی قوم کے سر داروں نے کہا جو متکبر تھے۔(جنھوں نے دعوتِ حق کےمقا بلے میں بڑی سر کشی کی تھی)

لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْہُمْ

اُن غریب و کمزور لو گوں سے جو اُنھیں میں سے ایمان لائے تھے۔

اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّہٖ۝۰ۭ

کیا تم یقین کرتے ہو کہ صالحؑ اپنے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے ،ہیں

قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ۝۷۵

اہلِ ایمان نے جواب دیا بے شک جس پیامِ حق کے ساتھ وہ بھیجے گئے ہیں، ہم اس پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں۔

قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا اِنَّا بِالَّذِيْٓ اٰمَنْتُمْ بِہٖ كٰفِرُوْنَ۝۷۶

اُن سر کش متکبّروں نے(اہلِ ایمان سے) کہا۔ جس بات پر تم ایمان لائے ہو۔ ہم اس کے منکر ہیں۔

فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّہِمْ

غرض انھوں نے اونٹنی کے پائوں کی رگیں کاٹ دیں اور اپنے پروردگار کے حکم سے سر کشی کی۔

وَقَالُوْا يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۝۷۷

اور انھوں نے کہا۔ ائے صالحؑ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہوتو اُس عذاب کو ہمارے پاس لے آئو جس سے تم ہمیں ڈرا تے ہو۔ اگرتم پیغمبر ہو۔

فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِہِمْ جٰثِمِيْنَ۝۷۸

پھر زلزلے نے انھیں آلیا۔ اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ گر کر ہلاک ہوئے۔

فَتَوَلّٰى عَنْہُمْ وَقَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ

تب صالح علیہ السلام ان سے منہ موڑ کر چلے اور کہا۔

اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَۃَ رَبِّيْ وَنَصَحْتُ لَكُمْ

ائے میری قوم میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچا یا۔ اور میں نے (ممکنہ) خیر خوا ہی کی۔

توضیح :صالح علیہ السلام نے دو سوا سّی بر س کی عمر پائی ۔ دعوتِ حق پیش کرتے رہے۔ قوم کی نا فرمانی کی وجہ زلزلہ آیا۔ نافرمان ہلاکت خیز گڑ گڑاہٹ سے ہلاک ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محفوظ رکھا۔ پھرآپ نے اہلِ ایمان کے ساتھ وہاں سے ہجرت فرمائی۔

وَلٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِيْنَ۝۷۹

لیکن تم تو اپنے خیر خوا ہوں ہی کو پسند نہیں کرتے۔

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَكُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ۝۸۰

اور جب ہم نے لوطؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا تو لوطؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بے حیائی کے کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے دنیا میں کسی نے بھی نہیں کیے۔

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ۝۰ۭ

کہ تم عورتوں کے بجائے شہوت رانی کے لیے مردوں کی تلاش میںنکلتے ہو۔

بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ۝۸۱

بلکہ تم حد سے نکل جانے والی قوم ہو(کہ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کا بے جابے محل استعمال کرتے ہویہ بھی اسراف ہے اور اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ۝۰ۚ

قوم کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا بجزیہ کہنے کہ انھیں بستی سے نکال باہر کردو۔

اِنَّہُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَہَّرُوْنَ۝۸۲

(وہ طعن کے طور پر کہتے ہیں) یہی بڑے پاکباز انسان ہیں۔

فَاَنْجَيْنٰہُ وَاَہْلَہٗٓ اِلَّا امْرَاَتَہٗ۝۰ۡۖ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِيْنَ۝۸۳

پھر ہم نے لوط علیہ السلام اور ان کے متعلقین کو عذاب سے نجات بخشی سوائے ان کی بیوی کے جو مستحقِ عذاب تھی۔

وَاَمْطَرْنَا عَلَيْہِمْ مَّطَرًا۝۰ۭ

اور ہم نے ان پر پتھر وں کی بارش بر سائی۔

فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِيْنَ۝۸۴ۧ

پھر دیکھئے مجرمین کا کیا انجام ہوا۔

توضیح : حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم ا لسلام کے بھتیجے تھے۔ ُسد وم میں مقیم تھے ۔ ان کی قوم بد اعمالی کی وجہ سے برباد کردی گئی۔ ان پر پتھر بر سا ئے گئے۔ سب ہلاک و تباہ ہو گئے۔ حضرت لوط علیہ ا لسلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے شہر سے نکل پڑے۔ ان کے ساتھ اہلِ ایمان بھی تھے ۔ سوائے ان کی بیوی کے وہ بھی عذاب میں ہلاک ہوئی۔

وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاہُمْ شُعَيْبًا۝۰ۭ

اور مدین والوں کی طرف بھائی شعیب کو رسول بنا کر بھیجا۔

توضیح :حضرت شعیب علیہ ا لسلام حضرت میکا ئیل کے فر زند تھے۔ مدین میں رہتے تھے۔ یہا ںکے باشندوں کو اصحابِ ایکہ بھی کہتے ہیں۔ یہ قوم ناپ تول میں کمی اور سیدھی راہ میں رکا وٹ ڈالنے کی عا دی تھی۔ حضرت شعیب علیہ ا لسلام نے ڈرایا۔ یہ بڑے فصیح و بلیغ اللسان تھے۔ آپ کو خطیب الا نبیاء کہا جاتاہے۔

قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ۝۰ۭ

شعیب علیہ السلام نے کہا۔ ائے میری قوم تم(اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق ) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اس اللہ کے سوا کوئی تمہارا الٰہ نہیں ہے۔

قَدْ جَاۗءَتْكُمْ بَيِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ

یقیناً تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے

فَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ

تم ناپ تول کی صحت کا پورا پورا خیال رکھو۔

وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْـيَاۗءَہُمْ

اور لوگوں کے مال میں نقصان نہ کرو۔

وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَا۝۰ۭ

اصلاحِ حال کی تعلیم آجانے کے بعد ملک میں فساد نہ پھیلا ئو۔

ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝۸۵ۚ

اگر تم ایمان والے ہو تویہ نصیحت تمہارے لیے نہایت ہی اچھی ہے۔

وَلَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَتَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِہٖ وَتَبْغُوْنَہَا عِوَجًا۝۰ۚ

جولوگ ایمان لا چکے ہیں انھیں راہ حق سے رو کنے دھمکا نے ٹیڑھے راستہ پر چلا نے کی غرض سے شہر کے ہر راستہ پر بیٹھا نہ کرو۔

وَاذْكُرُوْٓا اِذْ كُنْتُمْ قَلِيْلًا فَكَثَّرَكُمْ۝۰۠ وَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِيْنَ۝۸۶

اور اللہ کا وہ احسان یاد کرو جب کہ تم تعداد میں کم تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمھیں کثیر جماعت بنادیا۔ اور دیکھ لو فساد کر نے والوں کا کیسا بُرا انجام ہوا۔

وَاِنْ كَانَ طَاۗىِٕفَۃٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِيْٓ اُرْسِلْتُ بِہٖ

اور اگر تم میں سے ایک جماعت(اس تعلیم پر) ایمان لائی ہے جسے دے کر مجھے بھجوا یا گیا ہے۔

وَطَاۗىِٕفَۃٌ لَّمْ يُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا

اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی تو صبر کرو(یہ بات اُن کے نبی نے کہی)

حَتّٰي يَحْكُمَ اللہُ بَيْنَنَا۝۰ۚ وَہُوَخَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ۝۸۷

تا کہ آنکہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ کردیں اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والے ہیں۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ

ان کی قوم کے مغرور سرداروں نے کہا۔

لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَآ

ائے شعیب ہم تم کو اور ان کو جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال باہر کردیں گے۔

اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا۝۰ۭ

یا پھر تم ہمارے مذہب میں آجا ئو۔

قَالَ اَوَلَوْ كُنَّا كٰرِہِيْنَ۝۸۸ۣ

شعیبؑ نے کہا اگر ہم اس طرح مُر تد ہو نے کو سخت نا پسند ہی کیوں نہ کرتے ہوں تب بھی؟

قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَي اللہِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِيْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللہُ مِنْہَا۝۰ۭ

اگر ہم تمہارے باطل مذہب میں لوٹ کر آ جائیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں نجات بخشی تھی(تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ) اللہ تعالیٰ پر جھوٹی باتیں بنائیں گویا دین کاایک ڈھونگ رچا یا تھا۔

وَمَا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِيْہَآ

اور اب ہمارے لیے ممکن نہیں ہیکہ اس (باطل) مذہب میں لوٹ آئیں۔

اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللہُ رَبُّنَا۝۰ۭ

سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ہی چا ہیں جو ہمارے رب ہیں۔

وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا۝۰ۭ

ہمارے پر وردگار کا علم ہر شئے پر محیط ہے(ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں)

عَلَي اللہِ تَوَكَّلْنَا۝۰ۭ

ہم اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
(مخالفین کو یہ جواب دینے کے ساتھ ہی حضرت شعیب علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں نے دعا کی)

رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ۝۸۹

ائے ہمارے پر وردگار ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیجئے اورآپ بہترین فیصلہ کرنے والے ہیں۔

وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ

قوم کے سرداروں نے جو کا فر تھے اپنی قوم سے کہا۔

لَىِٕنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّـخٰسِرُوْنَ۝۹۰

اگر تم نے شعیبؑ کی اتباع کی توتم نقصان میں پڑ جائو گے۔

فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ

پس ایک سخت آواز( چیخ) نے انھیں اپنی گرفت میں لیا۔

فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِہِمْ جٰثِمِيْنَ۝۹۱ۚۖۛ

پھر وہ اپنے گھروں میں اوند ھے منہ گر کر ہلاک ہوئے۔

الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْہَا۝۰ۚۛ

جن لوگوں نے شعیبؑ کی تکذیب کی(وہ ایسے مِٹے) گو یا کہ اِن بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے۔

اَلَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَانُوْا ہُمُ الْخٰسِرِيْنَ۝۹۲

جن لو گوں نے شعیبؑ کو جھٹلا یا وہ بر باد ہو کر رہے۔

فَتَوَلّٰي عَنْہُمْ وَقَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَنَصَحْتُ لَكُمْ۝۰ۚ

پھر(شعیبؑ) ان سے منہ موڑ کر چلے اور کہا ائے میری قوم میں نے تم کو اپنے رب کے احکام پہنچا دیئے( اپنے فرائض کی تکمیل کردی) اور تمہارے لیے (ہر طرح کی )خیر خواہی کی۔

فَكَيْفَ اٰسٰي عَلٰي قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ۝۹۳ۧ

پھرمیں(ایسی) کافرقوم کی تباہی پر کیو نکر افسوس کروں۔ (جس نے دعوتِ حق قبول کرنے سے انکار کر دیا)

وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَۃٍ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَہْلَہَا بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی پیغمبر ایسانہیں بھیجا جہاں کے رہنے والوں کو (جو ایمان نہ لائے تھے) کسی آفت و مصیبت میں مبتلا نہ کردیا ہو۔

لَعَلَّہُمْ يَضَّرَّعُوْنَ۝۹۴

تاکہ وہ( آہ وزاری کے ساتھ) رجوع اِلی اللہ ہوں۔

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَۃِ الْحَسَـنَۃَ حَتّٰي عَفَوْا

پھر ہم نے ان کی خستہ حالی کو خوشحالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب خوشحال ہوتے گئے۔

وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَاۗءَنَا الضَّرَّاۗءُ وَالسَّرَّاۗءُ

اور وہ یہ کہتے رہے ہمارے باپ دادا پر بھی خوشحالی و بد حالی کے دور آتے رہے
(یہ نہ جانا کہ خوشحالی و بد حا لی کے ذریعہ ان کا امتحان لیا جا رہا ہے)

فَاَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۝۹۵

پس ہم نے انھیں اچانک اپنی گرفت میں لیا اور انھیں اس کا شعور بھی نہ تھا۔

وَلَوْ اَنَّ اَہْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا

اوراگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے اور( ایمان نہ لا نے کے انجام سے )ڈرتے۔

لَفَتَحْنَا عَلَيْہِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ

تو ہم ان پر زمین و آسمان سے بر کتیں نازل کرتے۔

وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰہُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۝۹۶

لیکن انھوں نے( دعوتِ حق کی) تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کے سبب اپنی گرفت میںلیا۔

اَفَاَمِنَ اَہْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِـيَہُمْ بَاْسُـنَا بَيَاتًا وَّہُمْ نَاۗىِٕمُوْنَ۝۹۷ۭ

کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہمارا عذاب ان کے پاس راتوں رات آئے جبکہ وہ سورہے ہو تے ہیں۔

اَوَاَمِنَ اَہْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِـيَہُمْ بَاْسُـنَا ضُـحًى وَّہُمْ يَلْعَبُوْنَ۝۹۸

یا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب ( اچانک) دن میں آئے جبکہ وہ کھیل کو د میں مصروف ہوں۔

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللہِ۝۰ۚ

تو کیا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے اتنے نڈر ہو گئے ہیں

فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۝۹۹ۧ

اللہ تعالیٰ کی گرفت سے وہی لوگ بے خوف رہتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہو تے ہیں۔ ( نقصان اُٹھا نے والے ہو تے ہیں)

اَوَلَمْ يَہْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَہْلِہَآ

پچھلے لوگوں کے (ہلاک ہو جا نے کے ) بعد جو لوگ زمین کے وارث ہوئے کیا ان کے لیے یہ بات مو جبِ ہدایت نہ ہوئی

اَنْ لَّوْ نَشَاۗءُ اَصَبْنٰہُمْ بِذُنُوْبِہِمْ۝۰ۚ

اگر ہم چاہتے تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر بلائیں نازل کرتے۔

وَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ۝۱۰۰

اور ہم(انتقاماً) ان کے دِلوں پر مہر لگا دیتے پھر وہ کچھ سن نہ پا تے۔

تِلْكَ الْقُرٰي نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗىِٕہَا۝۰ۚ

یہ وہ بستیاں ہیں جن کے کچھ احوال ہم تمہیں سنا تے ہیں

وَلَقَدْ جَاۗءَتْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَيِّنٰتِ۝۰ۚ

یقیناً اِن کے پاس ان کے پیغمبر کھلی نشانیوں کے ساتھ آئے تھے۔

فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ۝۰ۭ

مگر جس بات کو وہ جھٹلا چکے تھے پھر اس کو ماننے والے نہ تھے۔

كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللہُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ۝۱۰۱

اسی طرح اللہ تعالیٰ( انتقاماً ایمان نہ لانے کے نتیجہ میں) کافروں کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں۔

وَمَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِہِمْ مِّنْ عَہْدٍ۝۰ۚ

اور ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں کو اپنے قول وا قرار کا پا بند نہ پایا۔

وَاِنْ وَّجَدْنَآ اَكْثَرَہُمْ لَفٰسِقِيْنَ۝۱۰۲

بلکہ ان کی اکثریت کو ہم نے نا فر مان (وبدکار) ہی پایا۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِہِمْ مُّوْسٰي بِاٰيٰتِنَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕہٖ فَظَلَمُوْا بِہَا۝۰ۚ

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو اپنے معجزات کے ساتھ فر عون اور اُس کے سر داروں کے پاس بھیجا تو انھوں نے اُن (معجزات )کا انکار کیا۔

فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِيْنَ۝۱۰۳

پھر دیکھئے ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔

وَقَالَ مُوْسٰي يٰفِرْعَوْنُ اِنِّىْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۰۴ۙ

اورموسیٰؑ نے کہا ائے فر عون میں رب العٰلمین کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔

حَقِيْقٌ عَلٰٓي اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَي اللہِ اِلَّا الْحَقَّ۝۰ۭ

(رسول ہونے کی حیثیت سے) مجھ پر لازم ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر حق بات کے سوا کوئی (غلط) بات نہ کہوں۔

قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ

بلا شبہ(میں اپنےنبی ہونے کے ثبوت میں)تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح معجزات لے کر آیا ہوں ۔

فَاَرْسِلْ مَعِيَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۝۱۰۵ۭ

لہٰذ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیجئے۔

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰيَۃٍ فَاْتِ بِہَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۝۱۰۶

فر عون نے کہا واقعی اگر تم کوئی نشانی لائے ہو تو دِکھا ئو اگر تم (اس بیان میں) سچےہوں۔

فَاَلْقٰى عَصَاہُ فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ۝۱۰۷ۚۖ

پس مو سیٰؑ نے اپنا عصاء (زمین پر) ڈال دیا پھر وہ اسی آن ایک بڑا (خوفناک) اژ دہابن گیا۔

وَّنَزَعَ يَدَہٗ فَاِذَا ہِىَ بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ۝۱۰۸ۧ

اور( مو سیٰؑ نے) اپنا ہاتھ نکالا تو دیکھنے والوں کے لیے وہ اس قدر روشن تھا کہ (اُس کی شعاعیں) سورج کی شعا عوں پر غالب تھیں۔ (غَلَبَ شُعَاعُھَا شُعَا عُ الشَّمْس)

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ۝۱۰۹ۙ

(ان معجزات کو دیکھنے کے بعد ) فرعون کی قوم کے سرداروں نے (آپس میں) کہا یقیناً یہ شخص بڑا (ہی )جا دوگر ہے۔

يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ۝۰ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ۝۱۱۰ 

یہ تم کو تمہارے ملک سے بے دخل کرناچاہتے ہیں کہو تمہاری کیا رائے ہے۔

قَالُوْٓا اَرْجِہْ وَاَخَاہُ

انھوں نے (فرعون سے) کہا ۔ مو سیٰ اور ان کے بھائی کو جواب کے انتظار میں رکھئے۔

وَاَرْسِلْ فِي الْمَدَاۗىِٕنِ حٰشِرِيْنَ۝۱۱۱ۙ

اور تمام شہروں میں اپنے کا رندے بھیجئے۔

يَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ۝۱۱۲

تاکہ تمام ما ہر جا دو گر وں کو آپ کے پاس لے آئیں۔

وَجَاۗءَ السَّحَرَۃُ فِرْعَوْنَ

پس جادوگر فرعون کے پاس آگئے۔

قَالُوْٓا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِـبِيْنَ۝۱۱۳

جادوگروں نے کہا ۔ اگر ہم اس مقابلہ میں کا میاب ہو جائیں تو ہما رے لیے کوئی صلہ ہے؟

قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ۝۱۱۴

(فر عون نے) کہا ہاں ضرور ملے گا اور تم ہمارے مقرب بنا ئے جا ئو گے۔

توضیح :جا دوگر وں کو اتنی تو سمجھ تھی کہ فرعون کا ساتھ دینے سے پہلے فرعون سے اپنے حقوق منوالیے مگر آج اُمّت کے عوام و خواص کو تا ہ اندیش ہو گئے ہیں کہ وہ اہم مسائل میں بھی اپنے جائز حقوق کے تحفظ کو پیشِ نظر نہیں رکھتے اور آنکھ بند کیے اہل باطل کی گر دِ راہ بن جا تے ہیں۔

قَالُوْا يٰمُوْسٰٓي اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ وَاِمَّآ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِيْنَ۝۱۱۵

(فرعون سے اپنا حق منوالینے کے بعد) جا دوگر وں نے کہا ائے مو سیٰؑ یا تو آپ (اپنا جا دو )پہلے ڈالیئے یا ہم اس کی ابتدا کریں؟

قَالَ اَلْقُوْا۝۰ۚ فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْہَبُوْہُمْ

مو سیٰؑ نے کہا تم ہی ابتداء کرو۔ پھر جا دو گروں نے جب اپنا جادو دکھا یا تو لو گوں کی آنکھوں کو مسحور کردیا۔
(یعنی حقیقت کے خلاف لا ٹھیوں اور رسیوں کو اُن کی نظر میں سانپ کردکھا یا اور انھیں خوف زدہ کردیا۔)

وَجَاۗءُوْ بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ۝۱۱۶

اور ایک بڑی جا دوگر ی دکھائی۔

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ۝۰ۚ

اور ہم نے مو سیٰؑ کو وحی کی کہ اپنا عصاء زمین پر ڈال دے۔

فَاِذَا ہِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ۝۱۱۷ۚ

پس(عصاء کا زمین پر ڈالنا تھا کہ اژ دہابن گیا) وہ اُسی وقت اُن ساری چیزوں کو نگل گیا۔ جو کچھ اُنھوں نے (جا دو کے ذریعہ )بنا یا تھا۔

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۱۱۸ۚ

پس حق ظاہر ہو گیا( جوبات حق تھی ظاہر ہو گئی) اور جو کچھ (سحر کا ری) انھوں نے کیا تھا باطل ثابت ہوا۔

فَغُلِبُوْا ہُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ۝۱۱۹ۚ

مقابلے میں وہ(فرعون اور اس کے ساتھی) مغلوب اور شکست خور دہ ہوگئے۔

وَاُلْقِيَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِيْنَ۝۱۲۰ۚۖ

(اور اس کیفیت نے جا دو گروں کو سجدہ ریز ہو نے پر مجبور کردیا)اور جادو گر سجدہ میں گرگئے۔

قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۲۱ۙ

انھوں نے کہا ہم سارے جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے۔

رَبِّ مُوْسٰي وَہٰرُوْنَ۝۱۲۲

جو مو سیٰؑ اور ہارونؑ کا(بھی) رب ہے۔

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِہٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ۝۰ۚ

فرعون نے کہا قبل اس کہ میں تمھیں اجا زت دوں کیا تم ان پر ایمان لے آئے ہو؟

اِنَّ ہٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْہُ فِي الْمَدِيْنَۃِ

یقیناً یہ کوئی زبردست سازش ہے جو تم نے اس شہر(دارالسلطنت) میں کی ہے۔

لِتُخْرِجُوْا مِنْہَآ اَہْلَہَا۝۰ۚ

تاکہ یہاں سے اس کے شہریوں کا نکال دو۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۝۱۲۳

عنقریب تم (اس کے انجام کو )جا نوگے۔

لَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ

یقیناً میں تمہارے ہاتھ پائوں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا۔

ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَ۝۱۲۴

پھر میں تم سب کو سولی پر چڑھوا دوںگا۔

قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ۝۱۲۵ۚ

انھوں نے کہا(تمام معبودانِ باطل کو چھوڑ کر) ہم اپنے رب کی طرف پلٹ گئے ہیں۔

وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاۗءَتْنَا۝۰ۭ

اور کہا تم ہم سے محض اس لیے انتقام لینا چاہتے ہو کہ ہم اپنے پر وردگار کی آیتوں پر ایمان لائے جب وہ ہمارے پاس آئیں۔ (پھر ساتھ ہی دعا کردی)

رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا

ائے ہمارے پروردگار (جو بھی مصیبتیں ہم پر آئیں) ہمیں توفیق بخشئے

مُسْلِـمِيْنَ۝۱۲۶ۧ

کہ ہم انھیں بخوشی برداشت کرلیںاور ہمیں فر ما نبر داری کی حالت میں موت دیجئے۔

توضیح :جادو گر جانتے تھے کہ وہ جادو کا سانپ کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ مگر جب حضرت مو سیٰؑ کا اژ دھا جا دوکے سانپوں کو نگل گیا تو جا دو گروں نے جان لیا کہ یہ جا دو نہیں۔ اللہ کی طرف سے حضرت مو سیٰؑ کا معجزہ ہے فوراً ایمان لے آئے۔

وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ

اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا

اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَہٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ

کیا آپ مو سیٰؑ اور اُن کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دیں گے کہ ملک میں فساد پھیلا تے رہیں۔

توضیح :جاہل قسم کے لوگ اپنے باطل عقیدہ کے خلاف جب بھی صدائے حق سنتےہیں تو اس کو فساد پھیلانا کہتے ہیں۔

وَيَذَرَكَ وَاٰلِہَتَكَ۝۰ۭ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَہُمْ

اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑدیں(نہ مانیں) فرعون نے کہا ہم ابھی ان کے لڑکوں کو قتل کریں گے۔

وَنَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَہُمْ۝۰ۚ وَاِنَّا فَوْقَہُمْ قٰہِرُوْنَ۝۱۲۷

اوران کی لڑ کیوں کو(خدمت و تعیشات کے لیے) زندہ رہنے دیں گے اور ہم ان پر ہر طرح غالب (و مقتدر) ہیں ۔

قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِہِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللہِ وَاصْبِرُوْا۝۰ۚ

موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو اور( ثابت قدم رہو) صبر کرو۔

توضیح : اِ سْتَعِیْنُو بِا للہ کی اس تعلیم کی مو جودگی میں استعانت بالا و لیا کا جو عقیدہ آج اُمّت میں پیدا کیا گیا ہے۔ شرک ہے اور اس مشر کانہ عقیدہ کو جس بے خوفی و بے با کی کے ساتھ پھیلا یا جا رہا ہے کیا یہ غضبِ الٰہی کو دعوت دینا نہیں ہے؟

اِنَّ الْاَرْضَ لِلہِ۝۰ۣۙ يُوْرِثُہَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ۝۰ۭ

(موسیٰؑ نے یہ بھی کہا) یہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں اس کا مالک بنا دیتے ہیں۔

وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِيْنَ۝۱۲۸

(لیکن) آخرت کی ( کا میاب و با مُراد) زندگی تم متقین ہی کیلئے ہے۔

قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا۝۰ۭ

مو سیٰؑ کی قوم نے جواب دیا آپ کے آنے سے پہلے بھی ہمیں اذیتیں پہنچائی جا تی رہیں اور آپ کے آنے کے بعد بھی( ستائے جا رہے ہیں)

قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّہْلِكَ عَدُوَّكُمْ

موسیٰؑ نےکہا ہو سکتاہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے۔

وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ

اور تمہیں خلافت ارضی بخشے پھر دیکھے کہ تم اپنے دور حکومت میں کیسے عمل

فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ۝۱۲۹ۧ

کرتے ہو؟

خلافتِ ارضی کاعطا کرنا بھی ایک امتحان ہے نہ کہ نیکیوں کاصلہ جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں۔

وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّـنِيْنَ

اور ہم نے فرعونیوں کو قحط میں (ما خوذ کیا۔بالفاظ استمنان) پکڑ لیا۔

وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ يَذَّكَّـرُوْنَ۝۱۳۰

اور پھلوں میں کمی کردی(بہت کم پھل آنے لگے) تاکہ وہ نصیحت حا صل کر یں(رجوعِ الیٰ اللہ ہوں)

فَاِذَا جَاۗءَتْہُمُ الْحَسَـنَۃُ قَالُوْا لَنَا ہٰذِہٖ۝۰ۚ

پھر جب انھیں خوشحالی نصیب ہو تی ہے تو کہتے ہیں ہم تو اس کے مستحق تھے۔

وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَيِّئَۃٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰي وَمَنْ مَّعَہٗ۝۰ۭ

اور جب ان پر کوئی مُصیبت آپڑ تی ہے تو مو سٰی اور اُن کے ساتھیوں سے بد شگو نی لیتے ہیں۔

اَلَآ اِنَّمَا طٰۗىِٕرُہُمْ عِنْدَ اللہِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۝۱۳۱

انھیں اس سے آگاہ ہو نا چاہیئے کہ ان کی( نحو ستیں) صعو بتیں اللہ تعا لیٰ کے پاس طے شدہ تھیں لیکن ان کی اکثریت نہیں جانتی۔

وَقَالُوْا مَہْمَا تَاْتِنَا بِہٖ مِنْ اٰيَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِہَا۝۰ۙ

اور انھوں نے (موسیٰؑ سے) کہا ہم پر جادو کرنے کے لیے تم کتنی ہی نشانیاں لے کر آئو۔

فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ۝۱۳۲

ہم تو تم پر ایمان لانے والے نہیں(یعنی نہ آپ کو پیغمبر ما نیں گے اور نہ آپ کی دعوتِ ایمان قبول کریں گے۔)

فَاَرْسَلْنَا عَلَيْہِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ

پھر(با لآ خر) ہم نے اُن پر طوفان بھیجا اور ٹِڈی دل چھوڑے اور جوئیں اور مینڈک اور خون کی بارش کی کتنی ہی واضح

اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ ۝۰ۣ

(کھلی کھلی )نشا نیاں بھیجیں۔

فَاسْـتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ۝۱۳۳

پھر بھی وہ سرکشی کرتے رہے وہ بڑی ہی مجرم قوم تھی۔

وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ

اور جب بھی اُن پر عذاب کی کوئی صورت پیش آتی۔(تو گھبرا کر) کہتے ائے موسٰی اپنے رب سے ہمارے لیے دُعا کیجئے۔

بِمَا عَہِدَ عِنْدَكَ۝۰ۚ

جیسا اُس نے تم سے عہد کر رکھاہے(یعنی تمہاری دعائوں کو قبول کرنے کا  وعدہ کیا ہے)

لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ

اگر آپ نے ہم سے عذاب کو ٹال دیا تو ہم آپ پر ضرور ایمان لائیں گے۔

وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۝۱۳۴ۚ

اور بنی اسرائیل کو بھی آپ کے ساتھ کر دیں گے ۔

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓي اَجَلٍ ہُمْ بٰلِغُوْہُ اِذَا ہُمْ يَنْكُثُوْنَ۝۱۳۵

پھر جب ہم چند روز کے لیے ان پر آئی ہوئی مصیبتوں کو ٹال دیتے تو وہ اسی وقت اپنے قول و قرار سے پھر جاتے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ فِي الْيَمِّ بِاَنَّہُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْہَا غٰفِلِيْنَ۝۱۳۶

با لآ خر ہم نے ان سے انتقام لیا اور انھیں غرق در یا کر دیا اس لیے کہ انھوں نے ہماری نشا نیوں کا انکار کیا۔(اِس کے انجام پر غور نہ کیا)اور وہ اس انجام سے واقف نہ تھے۔

وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْ

اور ہم نے ان لو گوں کو جو بالکل کمزور کردیئے گئے تھے۔

يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا۝۰ۭ

مشرق سے مغرب تک(مُلک شام کا) وارث بنا دیا جس میں ہم نے برکتیں رکھیں تھیں۔

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۝۰ۥۙ بِمَا صَبَرُوْا۝۰ۭ

اور (ائے نبی ﷺ) آپ کے پر ور دگارے بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کے بدلے اپنا وعدہ پورا کردیا۔

وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُہٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ۝۱۳۷

فرعون اور اس کی قوم نے جو (کچھ صنعتی کار خانے اور) عالیشان محل بناتے رہے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا۔ اور اُن با غوں کو بھی جن کی بیلیں مانڈ ھے چڑھائی گئی تھیں۔

وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰي قَوْمٍ يَّعْكُفُوْنَ عَلٰٓي اَصْنَامٍ لَّہُمْ۝۰ۚ

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اُتا ر دیا۔پھر ان کا گزر ایسی قوم پر ہوا جو اپنے بُتوں کے سامنے مُراقبہ کیے (آنکھ بند کئے نہایت ہی ادب واحترام کے ساتھ سر جھکائے ) بیٹھی تھی۔

قَالُوْا يٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰـہًا كَـمَا لَہُمْ اٰلِہَۃٌ۝۰ۭ

انھوں نے (یہ دیکھ کر بنی اسرائیل نے کہا)کہا ائے موسیٰؑ ہمارے لئے بھی معبود بنادیجئے جس طرح ان کے لئے معبود ہیں۔

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْـہَلُوْنَ۝۱۳۸

موسیٰؑ نے کہا واقعی تم بڑی جاہل قوم ہو۔

اِنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا ہُمْ فِيْہِ

یہ سب لوگ جس شغل میں ہیں ہلاک و بر باد ہونے والے ہیں۔

وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۱۳۹

اور جو کچھ وہ کر رہے ہیںباطل کام ہیں۔

قَالَ اَغَيْرَ اللہِ اَبْغِيْكُمْ اِلٰہًا وَّہُوَفَضَّلَكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ۝۱۴۰

(مو سیٰؑ نے کہا)کیا میں غیر اللہ کو تمہارا اِلٰہ قرار دوں حالانکہ اُسی نے تم کو (کتاب دی) اور سارے عالم پر فضیلت بخشی۔

وَاِذْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ۝۰ۚ

اور(ہمارے اُن احسانات کو یاد کرو) جب کہ ہم نے تم کو فرعونیوں کے ظلم سے نجات دی وہ تمہیں بڑی ہی سخت اذیتیں پہنچا تے تھے۔

يُقَتِّلُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ۝۰ۭ

تمہارے لڑکوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور تمہاری عورتوںکو ( اپنی خدمات کے لیے) زندہ رہنے دیتے تھے ۔

وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ۝۱۴۱ۧ

اور اس میں تمہارے پر ور دگار کی طرف سے ایک سخت آزمائش تھی۔

وَوٰعَدْنَا مُوْسٰي ثَلٰثِيْنَ لَيْلَۃً وَّاَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ

اور ہم نے مو سیٰ سے تیس راتوں کی میعاد مقرر کی تھی،
اور دس(راتیں اور) ملا کر اس کو پورا کر دیا۔

فَتَمَّ مِيْقَاتُ رَبِّہٖٓ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَۃً۝۰ۚ

پھر اس طرح ان کے پر ور دگار کی چالیس راتوں کی میعاد پوری ہو گئی۔

وَقَالَ مُوْسٰي لِاَخِيْہِ ہٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ

تو مو سیٰؑ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا(میرے کوہِ طورپر جانے کے بعد) میری قوم میں میری جانشینی کیجئے۔

وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ۝۱۴۲

اور(ان کے عقائد کی) اصلاح کرتے رہیئے اور مفسدین کی راہ اختیار نہ کیجئے۔

توضیح :اللہ تعالیٰ نے حضرت مو سیٰ علیہ السلام کو چا لیس راتوں کے لیے بلا یا تھا تا کہ انھیں تو رات عنایت کی جائے۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اللہ تعا لیٰ نے تیس راتوں کے لیے طلب فرما یا ہے۔ میں تم میں اپنے بھائی ہارون کو اپنی جگہ چھوڑ جا تا ہوں۔ جب مو سیٰؑ تشریف لے گئے تو اللہ تعا لیٰ نے دس راتیں اور بڑھا دیں۔ اس عشرئہ آخر میں بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پرستش کی چنا نچہ سامری کے بچھڑا بنانے کا واقعہ آگے آتا ہے۔

وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَہٗ رَبُّہٗ۝۰ۙ

اور جب مو سیٰؑ ہمارے مقررہ وقت پر آئے اور ان کے رب نے اُن سے کلام فرما یا (بات کی)

قَالَ رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ۝۰ۭ

مو سیٰؑ نے کہا ائے میرے پر ور دگار مجھے اپنا دیدار کروایئے کہ میں ایک

قَالَ لَنْ تَرٰىنِيْ وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَـبَلِ

نظر آپ کو دیکھ لوں
اللہ تعالیٰ نے فرما یا تم مجھے نہیں دیکھ سکتے لیکن پہاڑ کی طرف دیکھئے۔

فَاِنِ اسْـتَــقَرَّ مَكَانَہٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِيْ۝۰ۚ

پھر اگر پہاڑ اپنی حالت پر قائم رہے تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔

فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَكًّا وَّخَرَّ مُوْسٰي صَعِقًا۝۰ۚ

پھر ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو (انوارِرباّنی کی تجلّی نے) اُس(پہاڑ) کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، اور مو سیٰؑ غش کھا کر گر پڑے۔

فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ۝۱۴۳

پھر جب انھیں ہوش آیا تو کہا۔حق تعالیٰ آپ(اپنی کسی بھی مخلوق کی مشابہت سے پاک ومنزّہ ہیں)
(لَیْسَ کَمِثْلِہٖ آپ کی شان ہے۔ یعنی کوئی چیز آپ کی مثل نہیں) میں توبہ کرتا ہوں کہ میں نے آپ سے ایسی فرمائش کیوں کی اور میں سب سے پہلے آپ پر ایمان لاتا ہوں۔

توضیح :جو لوگ دنیا میں دیدارِ الٰہی کے دعویدار ہیں وہ کس خواب وخیال میں ہیں ایک اولو العزم پیغمبر اور نبی کے لیے اس دنیا میں دیدارِ الٰہی ممکن نہیں تو بز گانِ دین صو فیاء و غیرہ کس طرح دیدارِ الٰہی کر سکتے ہیں۔ تجلی ذاتی اور تجلی نوری کی تقسیم کرکے اس عالم میں دیدار الٰہی کو ثابت کرنا صرف منطقی دائو پیچ ہے۔ اور بزر گوں سے ایسی باتیں منسوب کر نا بہتان تراشی ہے۔

قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ۝۰ۡۖ

اللہ تعالیٰ نے فر ما یا ائے موسیٰؑ میں نے تم کو اپنے پیام وکلام سے سارے جہاں کے لو گوں پر فضیلت بخشی۔ (سب سے ممتاز کیا)

فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ۝۱۴۴

لہٰذا جو کچھ میں نے تمہیں عطاء کیا ہے اس کو لو اور میرے شکر گزار بندوں میں شامل ہو جائو۔

وَكَتَبْنَا لَہٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَۃً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ۝۰ۚ

اور ہم نے اُن کے لیے (توریت کی) تختیوں میں ہر قسم کی نصیحت اور ہرچیز کی تفصیل لکھ دی۔

فَخُذْہَا بِقُوَّۃٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِہَا۝۰ۭ

پھر کہا ان ہدایتوں پر مضبو طی کے ساتھ جمے رہو اور قوم کو بھی حکم دو کہ اس تعلیم پر (کما حقہ، جمی رہے۔یعنی )نہایت اچھے طریقہ سے عمل کرے۔

سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ۝۱۴۵

میں ابھی تم کو نا فرمانوں (کا مقام اور اُن )کی اُجڑی ہوئی بستیاں دکھائونگا۔

توضیح : فرعون اور قومِ عما لقہ مُراد ہیں کہ نا فرما نی کے نتیجہ میں تباہ کر دیئے گئے۔

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰــتِيَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ۝۰ۭ

میں ایسے لو گوں کو اپنی نشا نیوں سے بر گشتہ ہی رکھو ں گا جو بلا استحقاق دنیوں زندگی میں ازراہِ تکبر جھگڑ تے رہتے ہیں۔

وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَۃٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِہَا۝۰ۚ

اگر وہ راہِ ہدایت کی ساری نشا نیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ایمان نہ لائینگے۔

وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْہُ سَبِيْلًا۝۰ۚ

اور اگر وہ نیکی کا راستہ دیکھیں تو اُسے اختیار نہ کر یں۔

وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْہُ سَبِيْلًا۝۰ۭ

اور اگر وہ گمراہی کی راہ دیکھیں تو اس کو اختیار کریں گے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا

یہ انتقامِ الٰہی ان کے ہماری آیتوں کو جھٹلانے کی وجہ سے ہے۔

وَكَانُوْا عَنْہَا غٰفِلِيْنَ۝۱۴۶

اور وہ اُس سے غفلت ہی برتتے رہے(کوئی تو جہ نہ کی)

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَلِقَاۗءِ الْاٰخِرَۃِ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ۝۰ۭ

اور جن لو گوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور آخرت کے پیش آنے کو غلط جا نا ان کے سارے اعمال ضائع( کئے جائیں گے )ہوگئے۔

ہَلْ يُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۱۴۷ۧ

یہ جو کچھ عمل کرتے رہے تھے اُسی کا بدلہ انھیں ملے گا۔

وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰي مِنْۢ بَعْدِہٖ مِنْ حُلِـيِّہِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ۝۰ۭ

اور مو سیٰؑ کے (کوہ طور پر جانے کے ) بعد آپ کی قوم نے اپنے طلائی زیورات سے گائے کے بچھڑے کا ایک مجسمہ بنا لیا جس سے گا ئے کی سی آواز نکلتی تھی۔

اَلَمْ يَرَوْا اَنَّہٗ لَا يُكَلِّمُہُمْ وَلَا يَہْدِيْہِمْ سَبِيْلًا۝۰ۘ

کیا انھوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ نہ وہ ان سے بات کر سکتا ہے۔ اور نہ اُن کو راہِ ہدایت دکھا سکتا ہے ۔

اِتَّخَذُوْہُ وَكَانُوْا ظٰلِـمِيْنَ۝۱۴۸

اس کو انھوں نے معبود بنا لیا اور گنہگار ہوئے۔

وَلَمَّا سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْہِمْ وَرَاَوْا اَنَّہُمْ قَدْ ضَلُّوْا۝۰ۙ

اور جب وہ اپنے کِیےپشیمان ہوئے اور محسوس کیا کہ واقعی انھوں نے گمراہی اختیار کی تھی۔

قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۝۱۴۹

تو کہا اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ فرمائے اور ہمارے گناہ معاف نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے(ایسا خسارہ جس کی تلا فی کسی طرح ممکن نہیں)

وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓي اِلٰى قَوْمِہٖ غَضْبَانَ اَسِفًا۝۰ۙ

اور جب مو سیٰؑ اپنی قوم میں نہایت غصّے و رنج کی حالت میں واپس آئے۔

قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ مِنْۢ بَعْدِيْ۝۰ۚ

تو کہا تم نے میرے(غیاب ) میں کیسی بد نظمی پیدا کی ۔

اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ۝۰ۚ

کیا تم اپنے رب کے حکم کا انتظار نہیں کر سکتے تھے(کس بناء پر گو سالہ پرستی میں جلدی کی)

وَاَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِيْہِ يَجُرُّہٗٓ اِلَيْہِ۝۰ۭ

اور(غصّہ کی حالت میں) تو رات کی تختیاں زمین پر ڈال دیں اور اپنے بھائی ہارون کے سر کے بال پکڑ کر کھینچنے لگے۔

قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِيْ وَكَادُوْا يَقْتُلُوْنَنِيْ۝۰ۡۖ

مو سیٰؑ کے بھائی نے کہا ائے میرے (ماں جائے)بھائی میں انھیں منع کرتا ہی رہا مگر لو گوں نے مجھے بے اختیار بنا رکھا تھا اور قریب تھا کہ وہ مجھے قتل ہی کر ڈالتے۔

فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْاَعْدَاۗءَ

آپ(مجھے مور دِ الزام ٹھہرا کر) میرے دشمنوں کو خوش ہونیکا مو قع نہ دیجئے۔

وَلَا تَجْعَلْنِيْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِــمِيْنَ۝۱۵۰

اور مجھے ان ظالموں کے ساتھ شمار نہ کیجئے۔

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ وَاَدْخِلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ ۝۰ۡۖ وَاَنْتَ اَرْحَـمُ الرّٰحِمِيْنَ۝۱۵۱ۧ

مو سیٰؑ نے دعا کی ائے میرے پر ور دگار مجھے اور میرے بھائی کو بخش دیجئے اور اپنی رحمت میں داخل فرمائیے آپ تو بڑے ہی رحم فرمانے والے ہیں۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوا الْعِـجْلَ

(جواب ارشاد ہوا) جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا تھا

سَيَنَالُہُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَذِلَّۃٌ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝۰ۭ

بہت جلد ان کے پر ور دگار کی طرف سے ان پر غضب نازل ہو گا اور دنیا کی زندگی میں ذلّت نصیب ہو گی۔

وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِيْنَ۝۱۵۲

اور ہم فتنہ پھیلانے والوںکو ایسا ہی بدلہ دیا کر تے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِہَا وَاٰمَنُوْٓا۝۰ۡ

اور جن لو گوں نے بُرے کام کیے پھر اس کے بعد انھوں نے توبہ کی اور ایمان لے آئے۔ (یعنی اپنے غلط عقائد کی اصلاح کرلی اور اللہ تعالیٰ ہی کو معبود و مُستعان جانا)

اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِہَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۱۵۳

تو بے شک تمہا را رب تو بہ کے بعد بڑا ہی بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ۝۰ۚۖ 

اور جب موسیٰؑ کا غصّہ ٹھنڈا ہوا تو تختیاںاٹھالیں۔

وَفِيْ نُسْخَتِہَا ہُدًى وَّرَحْمَۃٌ لِّلَّذِيْنَ ہُمْ لِرَبِّہِمْ يَرْہَبُوْنَ۝۱۵۴

اور اس میں ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب( کی نا فرمانی کے انجامِ بد ) سے ڈر تے رہتے ہیں ہدایتیں اور رحمتیں تھی۔

توضیح : جب اس طرح گو سالہ پرستی کا قصّہ ختم ہوا تو مو سیٰ علیہ السلام نے تو ریت کے احکام سُنائے آپ کی قوم شُبہات اور اعتراضات پیدا کرنے کی عادی تھی۔ کہا ہم کو کیسے معلوم ہوکہ یہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں؟ خود اللہ تعالیٰ ہی ہم سے کہہ دیں تو ہم یقین کریں۔آپ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ۔ حکم ہوا کہ ان میں سے کچھ آدمی جنھیں یہ معتبر سمجھتے ہوں منتخب کیے جائیں۔ ہم خود ان سے کہہ دیں گے کہ یہ ہمارے ہی احکام ہیں۔

وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَہٗ سَبْعِيْنَ رَجُلًا لِّمِيْقَاتِنَا۝۰ۚ

چنانچہ مو سیٰؑ نے اپنی قوم کے ستّر آدمی منتخب کیے۔(اور انھیں کوہِ طور پر پہنچا دیا۔)

توضیح : جب مو سیٰؑ کی قوم نے اللہ تعالیٰ کا کلام سُنا تو اس میں ایک اور شُبہ پیدا کیا۔ کہا ۔ نہ جانے کون بول رہا ہے ؟آپ کورسول نہ ما نیں گے۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو علا نیہ دیکھ نہ لیں۔

فَلَمَّآ اَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ

پھر جب ایک زلزلہ نے انھیں اپنی گرفت میں لیا۔

قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَہْلَكْتَہُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِيَّايَ۝۰ۭ

تو مو سیٰؑ نے عرض کیا ائے میرے پر ور دگار اگر ان کی ہلاکت منظور تھی تو اس سے پہلے ہی آپ تعالیٰ انھیں اور مجھے ہلاک کیے ہو تے ۔

اَتُہْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَاۗءُ مِنَّا۝۰ۚ

ہم میں سے چند بے و قو فوں کے قصور پر کیا آپ ہم سب کو ہلاک کر دینگے۔

اِنْ ہِىَ اِلَّا فِتْنَتُكَ۝۰ۭ

(گوسالہ پرستی کا)یہ واقعہ تو آپ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔

تُضِلُّ بِہَا مَنْ تَشَاۗءُ وَتَہْدِيْ مَنْ تَشَاۗءُ۝۰ۭ

ایسے امتحان سے آپ جسے چاہیں ہدایت بخشیں اور جسے چاہیں گمراہی میں پڑا رہنے دیں۔

توضیح : طالب ہدایت کو ہِدایت دی جا تی ہے اور جو گمرا ہی کو ہی ہدایت سمجھتا ہے اور اُسی پر اَ ڑا رہتا ہے اس کو اسی حالت پر چھوڑ دیا جا تا ہے۔ جیسا کہ ار شادِ الٰہی ہے اللّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ جو کوئی رجوعِ اِلیٰ اللہ ہو تا ہے اللہ تعالیٰ اُسے ہدایت بخشتے ہیں۔ طالب ہدایت کے لیے محرو می کہاں؟

اَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا

(اور مو سیٰؑ نے پکا را) اللہ تعالیٰ آپ ہی ہمارے کار ساز ہیں۔ ہمیں بخش دیجئے اور ہم پر رحم فر مائیے۔

وَاَنْتَ خَيْرُ الْغٰفِرِيْنَ۝۱۵۵

اور آپ ہی سب سے بہتر بخشنے والے ہیں۔

وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ ہٰذِہِ الدُّنْيَا حَسَـنَۃً وَّفِي الْاٰخِرَۃِ اِنَّا ہُدْنَآ اِلَيْكَ۝۰ۭ

اور آپ ہی اس دنیا میں بھی ہمارے لیےاچھائی ( اپنے عذاب سے مامون رہنا )لکھ دیجئے اور آخرت میں بھی۔

قَالَ عَذَابِيْٓ اُصِيْبُ بِہٖ مَنْ اَشَاۗءُ۝۰ۚ

اللہ تعالیٰ نے فرما یا میں اپنا عذاب جس پر چاہتاہوں واقع کرتا ہوں۔
(اگر چہ کہ ہر نا فرمان مستحقِ عذاب ہو تا ہے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ اپنے عذاب سب پر نازل نہیںفر ما تا)

وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ۝۰ۭ

اور( فرما یا) میری رحمت تو ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔

توضیح :رحمت عام ہے غیر مستحقین بھی دنیا میں رحمتِ الٰہی سے سر فراز ہوتے رہتے ہیں۔

فَسَاَكْتُبُہَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ

مگر رحمت ِخاص انھیں کے لیے لکھوں گا جو نا فرمانیوں سے بچتے ہیں (اللہ تعالیٰ کے احکام کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں) اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ ہُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ۝۱۵۶ۚ

اوریہی لوگ ہماری نشانیوں (جب ہماری تعلیم اُن کے پاس آتی ہے تو وہ اس پر) ایمان لاتے ہیں۔

اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ

یہ وہ لوگ ہیں جو رسولِ (عربی اور )نبی اُمّی کی اتباع کرتے ہیں۔

الَّذِيْ يَجِدُوْنَہٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ۝۰ۡ

جن کے او صاف کووہ اپنی کتاب تو ریت و انجیل میں لکھا ہوا پا تے ہیں۔

يَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ

وہ انھیں نیک کا موں کا حکم دیتے ہیں اور بُری با توں بُرے کا موں سے روکتے ہیں۔

وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ

اور پاک چیزوںکو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور نا پاک چیزوں کو ان پر حرام قراردیتے ہیں۔

وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ

اور اُن سے اُن کے بوجھ اُتار دیتے ہیں۔
(یعنی اُنھیں جن رسم و رواج کی بھا ری پابندیوں میں جکڑ کر رکھا گیا تھا، اُن سے رہائی دلا تے ہیں)

وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ

اور رسم ورواج کی جو زنجیریں اُن کی گردنوں میں پڑی ہوئی تھیں (اُنھیں اُتار دیتے ہیں)

فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ

لہٰذا جو لوگ اِن نبی اُمّی پر ایمان لائے اور اُن کی حمایت و مدد کی

وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ۝۰ۙ

اور جو نور (القرآن) ان کے ساتھ نازل کیا گیا ہے اس کی اتباع کی تو

اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۱۵۷ۧ

ایسے ہی لوگ دنیا و آخرت میں فلاح پانے والے ہیں(یعنی انھیں کے لیے آخرت کی کا میاب و با مُراد زندگی ہے)

توضیح : آج بھی اور قیامت تک آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات پر جو لو گ عمل پیرا ہوں گے آخرت کی کامیاب وبا مُراد زندگی سے فیض یاب ہوں گے۔

قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا

ائے بنی ﷺیہ اعلان کر دیجئے کہ لو گو! میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں(یعنی ساری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کا پیام پہنچانے پر ما مور ہوں)

الَّذِيْ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۚ

اسکی طرف سے (جو بِلا شرکتِ غیرے تنہا) آسما نوں و زمین کافرما نروا ہے۔

لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَيُـحْيٖ وَيُمِيْتُ۝۰۠

اس کے سوا کوئی معبود( و مستعان) نہیں۔ (وہی عبادت کے قابل اور استعانت کے لائق ہے) وہی زندگی بخشتا اور وہی موت دیتا ہے۔

فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ

پس تم اللہ جل شانہ پر ایمان لاؤ اور رسولِ اُمّی کو اللہ کا رسول تسلیم کرو۔

الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَكَلِمٰتِہٖ

یہ (رسول) خود بھی اللہ تعالیٰ ہی کو معبود (ومستعان) مانتے اور اللہ کی تمام باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔

وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّكُمْ تَہْتَدُوْنَ۝۱۵۸

اور اُسی رسول کی اتباع کرو۔ تاکہ تم ہدایت پا سکو۔

وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّۃٌ يَّہْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِہٖ يَعْدِلُوْنَ۝۱۵۹

اور موسیٰؑ کی قوم میں ایک جماعت ایسی بھی تھی جو الٰہی تعلیمات کے مطابق لو گوں کو ہدایت کیا کرتی اور اس کے مطابق عدل وانصاف بھی کرتی تھی۔

وَقَطَّعْنٰہُمُ اثْنَـتَيْ عَشْرَۃَ اَسْـبَاطًا اُمَمًا۝۰ۭ

اور ہم نے انھیں(بنی اسرائیل کو) بارہ قبائل میں تقسیم کیا اور ان کی بڑی بڑی جما عتیں بنائیں۔

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰي مُوْسٰٓي اِذِ اسْتَسْقٰىہُ قَوْمُہٗٓ

اور جب موسیٰؑ کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی ۔

اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ۝۰ۚ

کہ اپنا عصاء پتھر پر مارے۔

فَانْۢبَجَسَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَيْنًا۝۰ۭ

(عصاء مارنا تھا کہ) اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔

قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَہُمْ۝۰ۭ

ہر قبیلہ نے اپنے لیے پانی لینے کی جگہ پہچان لی۔

وَظَلَّلْنَا عَلَيْہِمُ الْغَمَامَ

اور ہم نے ان پر با دلوں کا سا یہ کیا( دھوپ و گرمی سے محفوظ رکھا)

وَاَنْزَلْنَا عَلَيْہِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى۝۰ۭ

اور ہم اُن پر من و سلویٰ اُتار تے رہے۔

توضیح : من شہد کی طرح کا میٹھا حلوہ’’ سلوٰی‘‘ بیٹر کی طرح کے پرندے۔

كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ۝۰ۭ

(اور انھیں کہا گیا) پاکیزہ ومر غوب غذائیں کھا تے رہو جو ہم نے تمہیں دی ہیں۔

وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ يَظْلِمُوْنَ۝۱۶۰

(اس عطاء کے بعد بھی سر کشی کی) انھوں نے ہمارا تو کچھ نہ بگاڑ ا بلکہ وہ اپنا آپ ہی نقصان کرتے رہے۔

وَاِذْ قِيْلَ لَہُمُ اسْكُنُوْا ہٰذِہِ الْقَرْيَۃَ

اور جب ان سے کہا گیا کہ اس بستی میں سکونت اختیار کرو

وَكُلُوْا مِنْہَا حَيْثُ شِئْتُمْ

اور اس کی پیدا وار سے( حسبِ منشاء) جہاں سے چاہو کھائو پیو۔

وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا

اور کہو حق تعالیٰ ہم سے ہمارے گناہ معاف فرما دیجئے اور شہرکے دروازہ سے عاجزی وانکسا ری کے ساتھ ’’حِطَّۃْ‘‘ کہتے ہوئے داخل ہو جائو۔

نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيْۗـــٰٔــتِكُمْ۝۰ۭ سَنَزِيْدُ الْمُحْسِـنِيْنَ۝۱۶۱

ہم تمہاری خطائوں کو معاف کردیں گے۔ ہم نیک کاروں کو(ان کی محنت سے)زیادہ، ہی عطاء کرتے ہیں۔

فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِيْ قِيْلَ لَہُمْ

مگر ان میں جو ظالم تھے اُس لفظ حطۃ کو بدل کر جس کا انھیں حکم دیا گیا تھا اُس جگہ اور لفظ کہناشروع کیا۔

فَاَرْسَلْنَا عَلَيْہِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاۗءِ بِمَا كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ۝۱۶۲ۧ

لہٰذا (اس جُرم کی پاداش میں) ہم نے ان پرآسمان سے عذاب بھیجا۔

وَسْــــَٔـلْہُمْ عَنِ الْقَرْيَۃِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ۝۰ۘ

اور آپ ان سے ان بستی والوں کا حال پوچھئے جو دریا کے کنارے آباد تھی۔
(یہ یہو دیوں کی بستی تھی جنھیں ہفتہ کے دن شکار کر نے سے منع کیا گیا تھا)

اِذْ يَعْدُوْنَ فِي السَّبْتِ

جب کہ انھوں نے ہفتہ کے بے حر متی کی۔

اِذْ تَاْتِيْہِمْ حِيْتَانُہُمْ يَوْمَ سَبْتِہِمْ شُرَّعًا

جب ہفتہ کا دن ہو تا تو مچھلیاں ان کے سامنے سطحِ آب پر آتی تھیں۔

وَّيَوْمَ لَا يَسْبِتُوْنَ۝۰ۙ لَا تَاْتِيْہِمْ۝۰ۚۛ

اور ہفتہ کا دن نہ ہو تا تو نہ آتیں(دکھائی بھی نہ دیتی تھیں)

كَذٰلِكَ۝۰ۚۛ نَبْلُوْہُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ۝۱۶۳

اسی طرح ہم نے (ان کی مسلسل )نا فرمانیوں کی وجہ انھیں سخت آزمائش میں مبتلا کردیا۔

وَاِذْ قَالَتْ اُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَۨاۙ

اُس وقت اُن ہی میں سے ایک جماعت نے کہا۔ تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو

اللہُ مُہْلِكُہُمْ اَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا۝۰ۭ

جنھیں اللہ تعالیٰ ہلاک کرنے والے ہیں یا انھیں سخت ترین عذاب دینے والے ہیں۔

قَالُوْا مَعْذِرَۃً اِلٰى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّہُمْ يَتَّقُوْنَ۝۱۶۴

تو انھوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پر ور دگار کے سامنے معذرت کرسکیں(کہ الٰہی ہم نے اپنا فرض پورا کر دیا) اور یہ بھی مقصد تھاکہ شاید وہ نا فرما نی سے بچیں۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِہٖٓ

پھر جب انھوں نے اُن نصیحتوں کو بھلا دیا جو انھیں کی گئی تھیں۔

اَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْہَوْنَ عَنِ السُّوْۗءِ

تو ہم نے اُن لو گوں کو بچا لیا جو لوگوں کو بُرا ئی سے روکتے تھے۔

وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍؚ بَىِٕيْــسٍؚبِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ۝۱۶۵

اور ہم نے ان سب کو جو ظالم تھے نا فرمانیوں کے نتیجہ میں سخت عذاب میں پکڑ لیا ۔

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُہُوْا عَنْہُ قُلْنَا لَہُمْ كُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِـِٕـيْنَ۝۱۶۶

پھر جن اعمال سے انھیں منع کیا گیا تھا جب وہ اُن پر مُصر ہوئے اور ہمارے حُکم سے سرکشی کرنے لگے(جس کے بعد اصلاح کی کوئی توقع باقی نہ رہی) تو ہم نے(براہِ قہر) کہہ دیا ذلیل بندر ہو جائو۔

توضیح : اس حُکم کے ساتھ ہی ان کی صور تیں مسخ ہو گئیں۔ تین روز زندہ رہے۔

وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ

اور(وہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے) جب کہ آپؐ کے رب نے (یہود کو) آگاہ کر دیا تھا۔

لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْہِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ مَنْ يَّسُوْمُہُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ۝۰ۭ

کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے اشخاص مسلط کرتا رہے گاجو اُنھیں بُری طرح تکلیفیں پہنچا تے رہیں گے۔(قتل ، خوں ریزی، شہر بدر کرنا، ٹیکس مقرر کرنا وغیرہ)

اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيْعُ الْعِقَابِ۝۰ۚۖ

بلا شبہ تمہا را پروردگار بہت جلد عذاب کرنے والاہے۔

وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۱۶۷

اور یقیناً وہ (معافی چاہنے والوں پر) بڑا ہی مہر بان ہے۔

وَقَطَّعْنٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا۝۰ۚ

اور ہم نے اُن کو فر قو ں میں بانٹ کر ملک کے مختلف حصوں میں منتشرکردیا ۔

مِنْہُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْہُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ۝۰ۡ

بعض اُن میں سے نیکو کاراور بعض بد کار تھے۔

وَبَلَوْنٰہُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّـيِّاٰتِ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۱۶۸

اور ہم نے انھیں خوشحالی و بدحالی میں مبتلاء کرکے آز ماتے رہے تاکہ وہ رجوعِ اِلیٰ اللہ ہوں۔

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ

پھر ان کے بعد ایسے نا خلف ان کے جا نشین ہوئے جو کتاب اللہ کے وارث ہونے کے باوجود

يَاْخُذُوْنَ عَرَضَ ہٰذَا الْاَدْنٰى

(مفادِ آخرت کو بُھلا کر) اس چند روز ہ دنیا کے فوائد کو( نا جائز طریقوں سے) حاصل کرنے کی دُھن میں لگے رہے۔

وَيَقُوْلُوْنَ سَيُغْفَرُ لَنَا۝۰ۚ

(گناہ بھی کرتے ہیں) اور کہتے ہیں ہم تو بخش دیئے جائیں گے۔

توضیح :یہودیوں کا اعتقاد ہے کہ وہ ایک نبی کی اُمّت اور نبی کی اولاد ہیں۔ اس لیے ان کے رات کے گناہ دن کو اور دن کے گناہ رات کو معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ کچھ دوسرے دنیا پر ست اُن پر طعن کرتے ہیں لیکن وہ بھی دنیا پرستی کی اس حد کو پہنچ گئے ہیں کہ

وَاِنْ يَّاْتِہِمْ عَرَضٌ مِّثْلُہٗ يَاْخُذُوْہُ۝۰ۭ

اگر ان کے پاس ویسا ہی مال آجائے تو یہ طعن کرنے والے اسے لے لیتے ہیں۔
(یعنی حرام و حلال کی تمیز کیے بغیر اس سے اپنا دامن بھر لیتے ہیں۔)

اَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْہِمْ مِّيْثَاقُ الْكِتٰبِ

کیا اِن سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا تھا

اَنْ لَّا يَقُوْلُوْا عَلَي اللہِ اِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوْا مَا فِيْہِ۝۰ۭ

کہ اللہ تعالیٰ پر سچ بات کے سوا کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس کتاب میں ہے وہ اس کو پڑھ بھی چکے ہیں۔

وَالدَّارُ الْاٰخِرَۃُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ۝۰ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۝۱۶۹

(جس کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ) آخرت کا اعلیٰ ترین مقام تو اُن لو گوں کیلئے ہے جو حلال و حرام کو جانتے اوراللہ تعالیٰ( جھو ٹی باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے) سے ڈر تے ہیں۔ کیا پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے(یعنی اپنے نفع و نقصان آخرت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے)

وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ

اور جو لوگ کتاب اللہ کی تعلیم پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہتے ہیں(اپنا عقیدہ کتاب اللہ کے مطابق رکھتے ہیں۔)

وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ۝۰ۭ

اور نماز قائم کر تے ہیں (پابندی کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں)

اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَ۝۱۷۰

یقیناً ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

توضیح : عقائد کی اصلاح کیے بغیر صرف نماز کا پابند کر ا دینا اصلاح کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔

وَاِذْ نَـتَقْنَا الْجَــبَلَ فَوْقَہُمْ كَاَنَّہٗ ظُلَّـۃٌ

اور اُنھیں وہ واقعہ بھی یاد ہو گا جب کہ ہم نے اِن کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا تھا۔

وَّظَنُّوْٓا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمْ۝۰ۚ

اور وہ ڈر رہے تھے کہ وہ (پہاڑ) ان پر گِر پڑ نے کو ہے۔

خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّۃٍ

(اس وقت ہم نے اس سے یہ عہد لیا تھا کہ) جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اس کو پوری قوت کے ساتھ لو(یعنی اس کی تعلیم پر سختی کے ساتھ جمے رہو)

وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْہِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝۱۷۱ۧ

اور جو احکام اس میں دیئے گئے ہیں انھیں مُستحضر رکھو (یعنی ان پر عمل پیرارہو)تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّيَّــتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ۝۰ۚ

اور وہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے جب کہ آپ کے پروردگار نے اولادِ آدم سے اِن کی پُشت سے ان کی تمام ذُرّیت کو نکال کر ان سے خود ان کے مقابلہ میں اقرار کروا لیا۔

اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ۝۰ۭ قَالُوْا بَلٰي۝۰ۚۛ شَہِدْنَا۝۰ۚۛ

کیا میں تمہارا پر ور دگار نہیں ہوں،سب نے کہا ہاں ہم گواہی دیتے ہیں آپ ہی ہمارے رب ہیں۔

اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اِنَّا كُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِيْنَ۝۱۷۲ۙ

(روزِ ازل ہی اقرار تم سے اس لیے لیا گیا) تاکہ قیا مت کے دن تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کی خبر نہ تھی۔

اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَكَ اٰبَاۗؤُنَا مِنْ قَبْلُ

یا یوںکہنے لگو کہ ہمارے باپ دادا تو بہت پہلے سے شِرک کرتے چلے آرہے تھے

وَكُنَّا ذُرِّيَّۃً مِّنْۢ بَعْدِہِمْ۝۰ۚ

اور ہم ان کی اولاد تھے(جو کچھ انھیں کرتے دیکھا) ان کے بعد ہم بھی وہی کرتے رہے ۔

اَفَتُہْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ۝۱۷۳

تو کیا ہمیں اس جُرم میں ہلاک کیا جائے گا جس کو اہل باطل نے کیا۔

وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ
وَلَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۱۷۴

اور اسی طرح ہم اپنے احکام تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں،تاکہ وہ رجوع اِلی اللہ ہوں (الٰہی تعلیمات قبول کریں)

توضیح :یہ واقعہ اس لیے بیان کیا گیا کہ لوگ اپنی فطری حیثیت بند گئی رب پر غور کریں اور وہ محسوس کریں کہ ان کا عضو عضو اس عہد ِ میثاق کی گواہی دے رہا ہے وہ اللہ ہی کے مقرر کر دہ نظامِ ربو بیت میں پر ورش پانے اور مقررہ منازلِ حیات طے کرنے پر مجبور ہیں، اس نظامِ الٰہی کا پا بند ہونا ہی اس کے عہدِ میثاق کی اہم شہادت ہے۔

وَاتْلُ عَلَيْہِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰہُ اٰيٰتِنَا

ائے نبی ؐ لو گوں سے اُس شخص کا حال بیان کیجئے جسے ہم نے اپنی آیتیں عطاء کی تھیں (علم دین سے نواز ا تھا)

فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ۝۱۷۵

پھر وہ اس کے حدود سے نکل گیا(احکام الٰہی کی پابندی نہ کی) تب شیطان اُس کے پیچھے پڑ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔

وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا

اگر ہم چاہتے تو (علم کی بدولت) اس کو بڑا مقام (درجات) عطاء کرتے۔

وَلٰكِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ۝۰ۚ

لیکن وہ پستی (دنیا ) ہی کی طرف مائل ہو گیا اپنی خوا ہشاتِ نفسانی کے پیچھے چل پڑا۔(اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنیٰ کو اختیار کیا)

فَمَثَلُہٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ۝۰ۚ

پس اس کی حالت کُتّے کی سی ہو گئی۔

اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْہِ يَلْہَثْ اَوْ تَتْرُكْہُ يَلْہَثْ۝۰ۭ

کہ اس پر سختی کی جائے تب بھی زبان لٹکائے ہانپنے لگتا ہے۔ یا اس کو اسی حال میں چھوڑ دیا جائے تب بھی زبان لٹکائے ہانپتا رہتا ہے۔
بے عمل انسان کا احکام الٰہی سے واقف ہو نا یا نہ ہو نا یکساں ہے۔ اس صفت کا انسان دنیا نہ ملنے پر حیران و پریشان اور اگر دنیا حاصل ہوجائے تو اضافہ کی فکر میں سر گر داں رہتا ہے۔ ایسے ہی شخص کو دُنیا کا کُتّا کہا جا تا ہے۔ کیونکہ کُتّے کی حرص ضرب المثل ہے۔ شکم سیری کے بعد بھی مزید کی تلاش میں رہتا ہے۔

ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۝۰ۚ

یہ اس قوم کی مثال ہے جو ہماری نشا نیوں کی تکذیب کرتی ہے۔

فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ۝۱۷۶

تو آپ انھیں ایسے واقعات سناتے رہئے تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں۔

سَاۗءَ مَثَلَۨا الْقَوْمُ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا

کیا ہی بُری مثال ہے ان لو گوں کی جنھوں نے ہماری تعلیمات کو جھٹلا یا۔

وَاَنْفُسَہُمْ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ۝۱۷۷

وہ آپ اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔

مَنْ يَّہْدِ اللہُ فَہُوَالْمُہْتَدِيْ۝۰ۚ

جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دیں وہی ہدایت پاتا ہے۔

وَمَنْ يُّضْلِلْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْخٰسِـرُوْنَ۝۱۷۸

اور جس کو گمراہی میں پڑارہنے دے تو ایسے ہی لوگ خسارہ میں رہتے ہیں۔

وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَــہَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ۝۰ۡۖ

اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیداکیے۔

لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَہُوْنَ بِہَا۝۰ۡ

اُن کے دِل تو ہیںمگر وہ ان سے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے

وَلَہُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِہَا۝۰ۡ

اور اُنکی آنکھیں تو ہیں مگروہ ان سے(اللہ تعالیٰ کی قدرتوںکو)نہیں دیکھتے

وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِہَا۝۰ۭ

اور اُن کے کان تو ہیںلیکن وہ اُن سے (حقائق کو) نہیںسُنتے۔

اُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ۝۰ۭ

یہ جانوروںکی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی بدتر۔

اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ۝۱۷۹

یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میںپڑے ہوئے ہیں۔

توضیح :پالتوجانوراپنے مالک کو پہچانتے ہیں مگریہ گمراہ لوگ اس قدرگمراہی میں مبتلاء ہیں کہ اپنے مالک کو نہیںپہچانتے۔ مخلوق کو خالق کے برابرقراردیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انکو دل ودماغ دیئے تاکہ اچھے بُرے میں تمیز کریں لیکن یہ صلاحیتوں کو کام میں نہیں لاتے ۔اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں اور سیدھے دوزخ میںپہنچ جاتے ہیں گویا کہ دوزخ ہی کیلئے پیدا ہوئے تھے۔

وَلِلہِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْہُ بِہَا۝۰۠

اوروہ تمام اسمائے حسنٰی(اسمائے الٰہی) اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہیں(جن کا تعلق انسان کی حاجت روائی سے ہے) لہٰذاانہی ناموں سے اللہ تعالیٰ کو (مددکے لیے)پکاراکرو(غیر اللہ پر ان کا اطلاق نہ کرو)

وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕہٖ۝۰ۭ

اور ایسے لوگوں کا ساتھ چھوڑدو جو اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کجی پیدا کرتے ہیں(اور باطل سے جوڑتے ہیں۔ )

توضیح : غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کی فرمانروائی میں شریک سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی طرح انھیں بھی اپنا محافظ کا رسازقرار دیتے ہیںان سے استعانت و مددچاہتے ہیں۔ ان کی منّت مُراد مانتے اور انھیں نافع وضار سمجھتے ہیں۔

سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۱۸۰

عنقریب یہ اپنے کیے کا بدل پا کرر ہیں گے۔

توضیح : ہدا یت حاصل کرنے کے جو ذرائع اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں انھیں اختیار کیے بغیر کوئی کس طرح ہدایت پاسکتا ہے؟ طالب ہدایت کو ہدایت دی جا تی ہے۔

وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّۃٌ يَّہْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِہٖ يَعْدِلُوْنَ۝۱۸۱ۧ

اور ہماری پیدا کی ہوئی مخلوقات میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو (ٹھیک ٹھیک طورپر الٰہی تعلیم کے مطابق ) لو گوں کی رہنمائی کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کے احکام کے مطابق عدل و انصاف بھی کر تی ہے۔

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا

اور جو لوگ ہماری تعلیمات کو جھٹلاتے ہیں۔

سَنَسْـتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ۝۱۸۲ۚۖ

ہم ان کی تد ریجا(ایسے طریق سے) ابدی تباہی یعنی جہنّم کی طرف لے جا تے ہیں کہ انھیں خبر بھی نہیں ہو تی۔

وَاُمْلِيْ لَہُمْ۝۰ۭۣ

اور میں نے انھیں تھو ڑی سی مہلت دے رکھی ہے(اس لیے ان پر فوری عذاب نہیں آرہا ہے)

اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۝۱۸۳

بے شک میری تدبیر نہایت ہی سنجیدہ واٹل ہے۔

اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا۝۰۫

اور کیا ان لو گوں نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ

مَا بِصَاحِبِہِمْ مِّنْ جِنَّۃٍ۝۰ۭ

ان کے رفیق(محمد ﷺ) کو کسی طرح کا جنون (دیوانہ پن) نہیں ہے۔ کیو نکہ مجنون غلط سلط با تیں بکتا رہتا ہے اور یہ نبیؐ تو مسلسل علم وحکمت کی باتیں بتا تے ہیں۔

اِنْ ہُوَاِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۝۱۸۴

وہ تو لو گوںکو(عذابِ آخرت سے) ڈرانے والے ہیں۔

اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللہُ مِنْ شَيْءٍ۝۰ۙ

کیا وہ آسمانوں اور زمین کے نظا مِ حکمرانی میں اور ہر اُس چیز میں جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا غور نہیں کر تے ۔

وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُہُمْ۝۰ۚ

(اور یہ بھی نہیں سوچا کہ) ان کی موت کاوقت قریب ہی آلگا ہو۔

فَبِاَيِّ حَدِيْثٍؚبَعْدَہٗ يُؤْمِنُوْنَ۝۱۸۵

پھر پیغمبر کی اس تنبیہ اور الٰہی افہام وتفہیم کے بعد وہ کونسی بات ہو سکتی ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے۔

مَنْ يُّضْلِلِ اللہُ فَلَا ہَادِيَ لَہٗ۝۰ۭ

جس کو اللہ اس کی اپنی گمراہی میں پڑا رہنے دیں پھر اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

وَيَذَرُہُمْ فِيْ طُغْيَانِہِمْ يَعْمَہُوْنَ۝۱۸۶

اور انھیں انکی اپنی سر کشی میں چھوڑ دیا جا تا ہے، وہ اسی میں بھٹکے رہتے ہیں۔

يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَۃِ اَيَّانَ مُرْسٰىہَا۝۰ۭ

(لوگ) آپؐ سے قیا مت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب واقع ہو گی؟

قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّيْ۝۰ۚ

کہہ دیجئے اس کا علم تو میرے پر ور دگار ہی کو ہے۔

لَا يُجَلِّيْہَا لِوَقْتِہَآ اِلَّا ہُوَ۝۰ۭ

وہی اُس کو اُس کے وقت پر ظاہر کرے گا۔

ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ

اور وہ وقت آسمانوں اور زمین پر بڑا ہی بھاری ہوگا۔

لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَۃً۝۰ۭ

وہ قیامت کی گھڑی تم پر اچانک آپڑے گی۔

يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْہَا۝۰ۭ

وہ آپؐ سے اس طرح پوچھتے ہیں گو یا کہ آپؐ اس کے آنے کے وقت سے واقف ہیں۔

قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ اللہِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۝۱۸۷

کہیئے اس کے آنے کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔

قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللہُ۝۰ۭ

ائے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) ان سے کہہ دیجئے کہ (میں اللہ کا رسول ہونے کے با وجود) میںاپنے لیے نفع و ضرر کا اختیار نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ جو اللہ تعالیٰ چا ہے۔

وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْـتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ۝۰ۚۖۛ

اور اگر میں غیب کی باتوں کا جاننے والا ہو تا تو کثرت سے فائدے حاصل کرلیتا۔

وَمَا مَسَّنِيَ السُّوْۗءُ۝۰ۚۛ

اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۝۱۸۸ۧ

میں توایمان والوں(دعوتِ حق قبول کرنے والوں) کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔
ڈر یہ کہ نافرمانی کی سزا جہنم ہوگی اور خوشخبری یہ کہ اطاعت کی جزا ء جنّت ہے

ہُوَالَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ

(اللہ) وہی تو ہے جس نے تم کو ایک نفسِ واحد(آدم) سے پیدا کیا۔

وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِيَسْكُنَ اِلَيْہَا۝۰ۚ

اور پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنا یا تاکہ وہ اس کے پاس سکون پائے۔

فَلَمَّا تَغَشّٰىہَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِہٖ۝۰ۚ

پھر جب مرد نے اس (عورت) کو ڈھانک لیا(یعنی اُس سے قربت کی) تو (حاملہ ہوئی) ہلکے سے حمل کو اُٹھائے چلتی پھر تی رہی۔

فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللہَ رَبَّہُمَا

پھر جب وہ (روز بر وز) بوجھل ہوتی گئی تو (میاں بیوی) دو نوں نے اپنے رب سے التجا کی۔

لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ۝۱۸۹

اگر آپ نے ہمیں صحیح سالم اولاد عنایت کی تو ہم آپ کے شکر گزار بندوں میں سے ہو جائیں گے۔

فَلَمَّآ اٰتٰىہُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىہُمَا۝۰ۚ

پھر جب ہم نے ان کو صحیح سالم لڑکا عنایت کیا تو انھوں نے اللہ کے ساتھ غیر اللہ کو بھی اس عطائے الٰہی میں شریک قرار دیا۔

(کہنے لگے اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں کا واسطہ وسیلہ نہ ہوتا تو ہم کو یہ عطائے الٰہی نصیب نہ ہوتی۔)

فَتَعٰلَى اللہُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۝۱۹۰
اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّہُمْ يُخْلَقُوْنَ۝۱۹۱ۡۖ

اللہ تعا لیٰ ان کے مشرکا نہ عقائد سے بلند با لا و بر تر ہیں۔ کیا وہ (اللہ تعالیٰ کی کار سازی و حاجت بر اری میں) غیر اللہ کو بھی شریکِ کار بنا تے ہیں جو کسی شے کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔

وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَہُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَہُمْ يَنْصُرُوْنَ۝۱۹۲

نہ وہ اُن کی کسی قسم سے مدد کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ وہ خود اپنی آپ مدد کرسکتے ہیں۔

وَاِنْ تَدْعُوْہُمْ اِلَى الْہُدٰى لَا

(ائے مشرکو!) اگر تم انھیں کسی امر میں اپنی رہنمائی کے لیے پکارو تو وہ

يَتَّبِعُوْكُمْ۝۰ۭ

معمولی سی بات میں بھی تمہاری رہنمائی نہیں کرسکتے۔

سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْہُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ۝۱۹۳

تم انھیں پکارو یا نہ پکا رو تمہارے لیے دو نوں باتیں یکساں ہیں(وہ تمہاری کوئی بات سُن نہیں سکتے)

اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ

(ائے مشرکو!) اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو تم پکار تے ہو۔

دُوْنِ اللہِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ

وہ تمہاری طرح اللہ تعالیٰ ہی کہ بندے ہیں۔

فَادْعُوْہُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝۱۹۴

(تمہارا عقیدہ ہے کہ وہ سنتے ہیں) تو تم انھیں پکار دیکھو پھر اُنھیں بھی چاہیئے کہ تمہیں جواب دیں(تمہاری استد عا کو قبول کریں) اگر تم اپنے اس عقیدہ میں سچّے ہو(کہ وہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں)

اَلَہُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِہَآ۝۰ۡ

کیا اُن کے پیر ہیں جن سے وہ چل سکیں۔

توضیح :یہاں ان معبو دانِ باطل کا ذکر ہے جن کی مور تیاں قلب و نظر کی تسکین کیلئے بنا کر مشر کین ان کے آگے لوازِم عبادت ادا کرتے تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ ان کے آگے لوازِم عبادت ادا کر تے وقت ان کی رو حیں اِن مو تیوں کے اند ر آجاتی ہیں۔

اَمْ لَہُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِہَآ۝۰ۡ

کیا ان کے ہاتھ ہیں (یعنی ان کے ہا تھوں میں طاقت ہے) جن سے وہ پکڑ سکیں۔

اَمْ لَہُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِہَآ۝۰ۡ

کیا ان کے لیے آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھ سکیں۔

اَمْ لَہُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِہَا۝۰ۭ

کیا ان کے لیے کان ہیں جن سے وہ سن سکیں۔

قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ۝۱۹۵

ائے نبی ﷺ! آپ کہہ دیجئے کہ تم اپنے شرکاء کو بلا لو(جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے رکھا ہے) پھر مجھ کو نقصان پہنچا نے کے لیے تم جتنی بھی تدبیریں کر سکتے ہو کر دیکھو پھر مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو (اور دیکھو کہ وہ میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟)

اِنَّ وَلِيِّ اللہُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ۝۰ۡۖ وَہُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ۝۱۹۶

بِلا شُبہ میرا پر ور دگار تو اللہ ہی ہے جس نے کتاب (برحق) نازل کی اور وہی نیکو کاروں کا حامی و ناصر ہے۔

وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَہُمْ يَنْصُرُوْنَ۝۱۹۷ 

اور جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکار تے ہو تو وہ تمہاری مدد کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ خود اپنی مدد آپ کرسکتے ہیں۔

وَاِنْ تَدْعُوْہُمْ اِلَى الْہُدٰى لَا يَسْمَعُوْا۝۰ۭ

اور اگر تم (اپنے کسی ادنیٰ معاملہ میں) انھیں کسی رہنمائی کے لیے پکارو تو وہ سُن بھی نہیں سکتے ۔

وَتَرٰىہُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ

بظا ہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں۔

وَہُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ۝۱۹۸

مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔

خُذِ الْعَفْوَوَاْمُرْ بِالْعُرْفِ

آپؐ (ان کی بے اعتنائی سے قطع نظر) عفوو درگز سے کام لیجئے اور انھیں نیک کاموں کے کرنے کا حکم دیجئے۔

وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِيْنَ۝۱۹۹

اور جاہلوں سے کنارہ کشی کیجئے (ان سے نہ اُلجھئے)

وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ

اور اگر شیطان آپ کے دل میں کوئی ضیق پیدا کر دے۔

فَاسْتَعِذْ بِاللہِ۝۰ۭ اِنَّہٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝۲۰۰

تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگئے۔ بے شک وہی سننے والا جاننے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ۝۲۰۱ۚ

یقیناً وہ لوگ جو پر ہیز گار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو جا تا ہے تو فوراً ہی چونک جاتے ہیں کہ یہ شیطانی بات تھی۔

وَاِخْوَانُہُمْ يَمُدُّوْنَہُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِــرُوْنَ۝۲۰۲

اور( جولوگ اللہ کی پناہ نہیں مانگتے) شیطان کے بھائی بند انکو سر کشی میں ڈالے رکھتے ہیں پھر( انھیں بھٹکا نے میں )کسی قسم کی کو تاہی نہیں کرتے ۔ تمہارے لیے رحمت الٰہی کا با عث بنے۔

وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَــہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ۝۲۰۵

اور اپنے پرور دگار کو دل ہی دل میں عا جزی اور خوف سے دبی آواز میں صبح و شام ہر وقت یاد کرتے رہو اور غافلوں میں سے نہ ہوجائو۔

اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَ

جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑ تے اسی کی تسبیح کرتے ہیں۔

يُسَبِّحُوْنَہٗ
وَلَہٗ يَسْجُدُوْنَ ۝۲۰۶ۧ ۞

ایسے کلمات کہتے رہتے ہیں جن سے اپنے رب کا (شِرک جیسے نقائص سے) پاک ہونا ظاہر ہو تا ہے جیسے سبحان اللہ اور اسی کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔