بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ کے نام (اسی کی مدد) سے جورحمٰن اور رحیم ہے، میں اس کا م کا آغاز کر ر ہا ہوں۔
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۱ۙ
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام مخلوقات کے رب ہیں سب کے حاجت رواہیں۔
مطلب یہ ہے کہ حاجت کے مفہوم میں خصوصی طورپر علمی احتیاج بھی شامل ہے۔ نیز کوئی کام کسی کی رائے ومشورہ سے ہو تو تعریف کے مستحق وہ سب ہوں گے جو شریک ِمشورہ ہے ہوں ۔ تنہاکو ئی ہستی انجام دی رہی ہوں تو ساری تعریف اس کے لیے ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعا لیٰ کسی کی رائے ومشورے وسفارشات کے بغیر اور کسی کو اپنے اختیارات کا کوئی جزو کسی حیثیت سے بھی عطا کیے بغیر تنہامخلو قاتِ ارضی وسماوی کی حاجت براری فرمارہے ہیں اس لیے ساری تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔
الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۲ۙ
وہ رحمٰن ورحیم ہیں۔
یعنی اللہ تعالیٰ کا نظامِ ربوبیت رحمانیت ورحیمیت ہی کے تحت دنیا وآخرت میں جاری وساری ہے۔ یعنی اگر بندے الٰہی تعلیم سے روگردانی کریں اور کفر وعُدوان کی روش اختیار کریں تو تحت ِ رحمانیت حق تعالیٰ کا عذاب ان سے متعلق ہوجائیگا اور اگر ایمان لانے کے بعد الٰہی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے ان سے کچھ لغزشیں سرزد ہوجائیں تو تحت ِ رحیمیت اللہ تعالیٰ عفو ودرگزر سے کام لیں گے۔
مٰلكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۳ۭ
روزِ جزا کے مالک ہیں۔
جیسا کہ ارشاد ہے وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ (ائے نبیﷺ) کیا آپ جانتے ہیں کہ روزِ جزا کیا ہے ؟ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَـيْــــًٔا اس روز کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ یعنی کوئی کسی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچاسکے گا۔ وَالْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلہِ۔اس روز ہر فیصلہ کا سارا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ سورۂ انفطار آیت ۱۹ قانونِ تعذیب ومغفرت میں کوئی شخص دخل انداز نہ ہوسکے گا۔ جس کا عمل قانونِ تعذیب کے تحت آئے گا اس کو عذاب دیا جائے گا کوئی اسے بچا نہ سکے گا۔ اور قانونِ مغفرت کے تحت جس کا عمل آئے گا اس کی مغفرت کی جائے گی۔ اور کوئی مانع ومزاحم نہ ہوسکے ہوگا۔ لہٰذا (اللہ تعالیٰ)
اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۴ۭ
ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں (یعنی آپ کے ہر حکم کے آ گے سرنیاز جھکاتے ہیں) اور آپ ہی سے مددچاہتے ہیں
کیونکہ دنیا وآخرت میں آ پ ہی ہماری مددکرنے والے ہیں لہذاہم کسی کو واسطہ وسیلہ بنائے بغیرآپ تعالیٰ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ (عبادت برائےاستعانت)
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ۵ۙ [١:٦] صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْہِمْ ۥۙ
(ہماری استدعاہےکہ ) ہم کو سیدھے راستے پر چلائیے۔ ان لو گوں کاراستہ جن پر آ پ تعالیٰ نے اپنا فضل فر ما یا ۔
آپ فضل وانعام یا فتنہ بندے کما ل ِاطاعت کی بنا پرآپ کی رحمت کے مستحق قرار دیئے گے ۔ جن کا ذکر آ پ نے اس طرح فر ما یا وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ۰ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا۶۹ۭ ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللہِ۰ۭ وَكَفٰى بِاللہِ عَلِــيْمًا۷۰ۧ (سورۃ النساء آیت ۷۰)
ترجمہ : اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسو ل کی اطاعت کرتے ہیں، قیامت کے دن وہ ان لو گو ں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے بڑافضل کیا۔ یعنی انبیاء صدیقین،شہدا،صالحین،(نیک لوگ) کیسے اچھےہیں یہ لو گ جن کی معیت نصیب آئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیض عظیم ہےاللہ تعالی جانتے ہیں کہ کون کس
غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْہِمْ وَلَاالضَّاۗلِّيْنَ۷ۧ
اور ان لو گو ں کے غلط راستے سے بچائے جو دانستہ غلطی کر کے مغضوب ہوے
(اللہ تعالیٰ کا ان پرغضب نازل ہوئے (ہماری تو یہی التجا ہے کہ اپنے خصوصی فضل وکرم سے ہمیں اس طرح کی سرفرازی فر ما ئی جائے کہ ) پھر ہم نہ گمراہ ہوں اور آپ کے غضب کے مستحق قرار پائیں۔
آمین : اپنے فضل وکرم سے اس معروضہ کو اسی طرح شرفِ قبولیت بخشئے جیسی کہ استدعا کی گئی ہے ۔
توضیح: سورۃ الفاتحہ الٰہی تعلیمات کا لب ِ لباب ہے۔ اور بندۂ عاجز ومحتاج کی ایک درخواست بھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سکھائی ہے کہ اللہ ہی کی عبادت کی جائے اور اللہ تعالیٰ ہی سے استعانت چاہی جائے۔ مالک یوم الدین سے نجات ومغفرت کی دعا کی جائے۔ ان بندوں کی اتباع وتقلید کی توفیق مانگی جائے۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے نعمت خاصہ کی نوازش فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعام یہ ہیں۔دین وایمان پر استقامت۔ قرآنی بصیرت۔ ایمانی جرأت وفراست ۔ اللہ رسول کی والہانہ باطل شکن اطاعت وفرماں برداری۔ اہل حق سے محبت حق کے مخالفین سے عداوت۔ نیکیوں سے رغبت ۔ برائیوں سے نفرت۔ حق پر قائم رہنے اور دین حق برپا کرنے کیلئے دین کا ہر نقصان گوارہ کرنے کی ہمت۔ دنیا میں نیکیوں کی اشاعت۔ اور برائیوں کو مٹانے کا عزم وحوصلہ مصیبتوں میں صبر ورضا۔ نعمتوں میں شکر واطاعت۔ کاروبار میں توکل، گناہوں پہ توبہ مخلوق سے بے خوفی ونا امیدی، اللہ تعالیٰ ہی سے خوف وامید ہر حرکت وسکون میںاللہ تعالیٰ ہی کے فضل ورحمت پر نظر ۔ دل ودماغ علم الٰہی کے نور سے منور ۔ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی والہانہ طلب وحرص۔