☰ Surah
☰ Parah

سورۂ ضحی مکی ہے اور اس میں گیارہ آیتیں ہیں۔
توضیح :سورۃ الضحیٰ اور الم نشرح، دونوں سورتیں، رسول اللہ ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے نازل فرمائی گئیں کیو نکہ تبلیغ کے ابتدائی مرحلے نہایت سخت تھے۔عام کفّار و مشرکین کے علاوہ کنبہ بر داری کے لوگ بھی نہ صرف دعوت حق کا انکار کرتے تھے بلکہ آپ کا مذاق بھی اڑاتے تھے۔آپ کو ساحر و مجنون کہتے۔آپ جد ھر رخ فرماتے تضحیک آمیز سلوک سے سابقہ پڑتا، بظاہر کا میابی کا صورت نظر نہ آتی تھی۔ چند دنوں تک وحی الٰہی کا سلسلہ بھی بند ہوا تھا مخالفین حق آپ کو طعنے دینے لگے تھے کہ محمدﷺ کو ان کے رب نے چھوڑ دیا ہے ۔ قلب مبارک پر یہ باتیں نہایت گراں گزر تیں اور کبھی آپؐ کو یہ بھی خیال آتا کہ کہیں حق تعالیٰ واقعی ناراض تو نہیںہوگئے؟

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝

اللہ کے نام (اسی کی مدد) سے جورحمٰن اور رحیم ہے، میں اس کا م کا آغاز کر ر ہا ہوں۔

وَالضُّحٰى۝۱ۙ
وَالَّیْلِ اِذَا سَـجٰى۝۲ۙ
مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰى۝۳ۭ
وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰى۝۴ۭ

قسم ہے روز روشن کی۔
اور رات کی جب وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے۔
(ائے نبی ﷺ) آپؐ کے رب نے نہ تو آپؐ کو چھو ڑا اور نہ ناراض ہوا
اور یقیناً آپؐ کے لئے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے۔

وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰى۝۵ۭ

اور عنقریب آپ کا پر ور دگار اس قدر عطا کریگا کہ آپ خوش ہوجائیں گے

توضیح :آپؐ دین میں پیش آنے والی مشکلات سے پریشان نہ ہوں۔ہر اگلادور پہلے دورسے آپؐکیلئے بہتر ثابت ہوگا ۔

اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًـا فَاٰوٰى۝۶۠

(آپؐ خود ہی اپنے گذشتہ حالات پر نظر ڈالیئے)
کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یتیم نہیں پا یا؟ پھر آپ کو باعزت ٹھکانہ فراہم کیا

توضیح : آپؐ بطن مادرہی میں تھے، آپؐ کے والد کا انتقال ہو گیا۔ چھ برس کی عمر میں ماں کا بھی انتقال ہو گیا مگر آپؐ کے دادا نے بہترین طریقہ سے آپؐ کی پر ورش فرمائی۔ دادا کے انتقال پر آپؐ کو اپنے چچا کی سر پرستی ملی۔ الغرض آپؐ کو بے سہا را نہیں چھوڑا گیا۔

وَوَجَدَکَ ضَاۗلًّا فَہَدٰى۝۷۠

اور آپ ؐ کو ناواقف راہ پا یا اور پھر ہدایت بخشی

وَوَجَدَکَ عَاۗىِٕلًا فَاَغْنٰى۝۸ۭ

اور آپؐ کو نادار پا یا تو مال دار کردیا۔

توضیح :امّ المومنین حضرت خدیجہؓ کے مال سے تجارت کی تو اس میں خوب نفع ہوا، جس کے بعد انھوں نے آپؐ سے نکاح کر لیا اور سارا مال واسباب آپؐ کی خدمت میں پیش کرد یا اس سے آپؐ کو بڑی فراغت حاصل ہوئی ۔

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْہَرْ۝۹ۭ
وَاَمَّا السَّاۗىِٕلَ فَلَا تَنْہَرْ۝۱۰ۭ
وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ۝۱۱ۧ

آپؐ یتیم پر سختی نہ کیجئے۔
اور نہ سائل کو جھڑ کیئے۔
اور اپنے پر ور دگار کی نعمتوں کا اظہار کیجئے ۔

تعلّی ناجائز ہے لیکن تحدیث نعمت جائز ہے۔