سورۂ ضحی مکی ہے اور اس میں گیارہ آیتیں ہیں۔
توضیح :سورۃ الضحیٰ اور الم نشرح، دونوں سورتیں، رسول اللہ ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے نازل فرمائی گئیں کیو نکہ تبلیغ کے ابتدائی مرحلے نہایت سخت تھے۔عام کفّار و مشرکین کے علاوہ کنبہ بر داری کے لوگ بھی نہ صرف دعوت حق کا انکار کرتے تھے بلکہ آپ کا مذاق بھی اڑاتے تھے۔آپ کو ساحر و مجنون کہتے۔آپ جد ھر رخ فرماتے تضحیک آمیز سلوک سے سابقہ پڑتا، بظاہر کا میابی کا صورت نظر نہ آتی تھی۔ چند دنوں تک وحی الٰہی کا سلسلہ بھی بند ہوا تھا مخالفین حق آپ کو طعنے دینے لگے تھے کہ محمدﷺ کو ان کے رب نے چھوڑ دیا ہے ۔ قلب مبارک پر یہ باتیں نہایت گراں گزر تیں اور کبھی آپؐ کو یہ بھی خیال آتا کہ کہیں حق تعالیٰ واقعی ناراض تو نہیںہوگئے؟
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ کے نام (اسی کی مدد) سے جورحمٰن اور رحیم ہے، میں اس کا م کا آغاز کر ر ہا ہوں۔
وَالضُّحٰى۱ۙ
وَالَّیْلِ اِذَا سَـجٰى۲ۙ
مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰى۳ۭ
وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰى۴ۭ
قسم ہے روز روشن کی۔
اور رات کی جب وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے۔
(ائے نبی ﷺ) آپؐ کے رب نے نہ تو آپؐ کو چھو ڑا اور نہ ناراض ہوا
اور یقیناً آپؐ کے لئے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے۔
وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰى۵ۭ
اور عنقریب آپ کا پر ور دگار اس قدر عطا کریگا کہ آپ خوش ہوجائیں گے
اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًـا فَاٰوٰى۶۠
(آپؐ خود ہی اپنے گذشتہ حالات پر نظر ڈالیئے)
کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یتیم نہیں پا یا؟ پھر آپ کو باعزت ٹھکانہ فراہم کیا
وَوَجَدَکَ ضَاۗلًّا فَہَدٰى۷۠
اور آپ ؐ کو ناواقف راہ پا یا اور پھر ہدایت بخشی
وَوَجَدَکَ عَاۗىِٕلًا فَاَغْنٰى۸ۭ
اور آپؐ کو نادار پا یا تو مال دار کردیا۔
فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْہَرْ۹ۭ
وَاَمَّا السَّاۗىِٕلَ فَلَا تَنْہَرْ۱۰ۭ
وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ۱۱ۧ
آپؐ یتیم پر سختی نہ کیجئے۔
اور نہ سائل کو جھڑ کیئے۔
اور اپنے پر ور دگار کی نعمتوں کا اظہار کیجئے ۔
تعلّی ناجائز ہے لیکن تحدیث نعمت جائز ہے۔